غیر معیاری گیس سلنڈرز نے شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈال دی،سینیٹ کمیٹی میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
غیر معیاری گیس سلنڈرز نے شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈال دی،سینیٹ کمیٹی میں تشویش WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں غیر معیاری گیس سلنڈرز کے بڑھتے ہوئے حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر وقار مہدی نے بتایا کہ پنجاب میں اب تک پانچ سو سے زائد غیر معیاری گیس سلنڈرز سے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں گیس سلنڈر دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں پچاس سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔
سینیٹر وقار مہدی نے مزید کہا کہ اوگرا کے کسی افسر نے کہیں بھی چھاپہ نہیں مارا اور عوام کو معلوم نہیں کہ کون سے سلنڈر محفوظ ہیں اور کون سے نہیں۔ انہوں نے تنقید کی کہ موجودہ قانون میں صرف تین ہزار روپے کا جرمانہ ہے جو غیر معیاری گیس سلنڈر بنانے والوں کے لیے ناکافی ہے۔
چیئرمین اوگرا نے اجلاس میں بتایا کہ ملتان واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کو بارہ بارہ لاکھ روپے اور زخمیوں کو چھ چھ لاکھ روپے دئیے گئے۔
اجلاس میں ایل پی جی مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر عرفان کھوکھر نے بھی بریفنگ دی اور کہا کہ جب تک موثر قانون سازی نہیں ہوگی، حادثات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گوجرانوالہ میں پانچ سو سے زائد کارخانے غیر معیاری سلنڈر تیار کر رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراوگرا چیئرمین کی تعیناتی پر کمیٹی میں گرما گرمی، سینیٹر منظورکاکڑ نے قانونی سوالات اٹھا دیے اوگرا چیئرمین کی تعیناتی پر کمیٹی میں گرما گرمی، سینیٹر منظورکاکڑ نے قانونی سوالات اٹھا دیے موڈیز نے بینکنگ سیکٹر کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کر دیا بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ہے: خواجہ آصف چابہار سے پیچھے ہٹنے کے بعد بھارت کا ایرانی تیل بردار جہازوں پر قبضہ، امریکی دباؤ یا سفارتی حکمت عملی؟ جاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی سات دن میں اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کےلیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا، چیف کمشنرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر معیاری گیس سلنڈرز کمیٹی میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔