سندھ حکومت کا فسطائی ہتھکنڈہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-03-3
8 فروری 2024 کو جس طرح دھونس، دھمکی، دھاندلی اور سرکاری سرپرستی میں انتخابی نتائج تبدیل کر کے من پسند جماعتوں کو ایوانوں تک پہنچایا گیا وہ ملک کی سیاسی و انتخابی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ 8 فروری 2024 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ جمہوریت کو مضبوط کریں گے اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد بحال کریں گے۔ کروڑوں شہریوں نے اس امید کے ساتھ حصہ لیا کہ ان کے ووٹ بامعنی سیاسی تبدیلی لائیں گے۔ تاہم، بڑے پیمانے پر دھاندلی اور نتائج میں ہیرا پھیری کی وجہ سے یہ انتخابات تیزی سے متنازع بن گئے۔ سب سے سنگین غلطی میں سے ایک سرکاری نتائج کے اعلان میں غیر معمولی اور طویل تاخیر تھی۔ کئی حلقوں میں وہ امیدوار، جو ابتدائی گنتی کے مطابق برتری حاصل کر رہے تھے، واضح مداخلت کے بعد شکست خوردہ قرار دے دیے گئے۔ اس صورتحال نے ان شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ نتائج کی ترسیل اور یکجا کرنے کے عمل کے دوران ان میں تبدیلی کی گئی۔ سیاسی جماعتوں، آزاد امیدواروں اور انتخابی مبصرین نے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم میں مداخلت، فارم 45 اور فارم 47 میں تضادات اور پولنگ عملے پر دباؤ جیسی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ ان مسائل نے انتخابی نتائج کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور منصفانہ نمائندگی کے اصول کو کمزور کیا۔ اس تاریخی دھاندلی کے خلاف گزشتہ دن جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا جو کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے مگر سندھ حکومت نے جس فسطائیت کا مظاہرہ کیا وہ کسی بھی طور جمہوری قدروں سے ہم آہنگ نہیں، عوامی پریس کانفرنس کے دوران ہی پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر ذمے داران و کارکنان کو گرفتار کرلیا، حکومت کی کوشش تھی کہ پریس کانفرنس کو کسی طور سبوتاژ کردیا جائے، مگر جماعت ِ اسلامی نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ 14 فروری ہر حال میں دھرنا دیا جائے گا اور کراچی کے تمام مسائل کے حل کے لیے بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے پیپلز پارٹی عوامی مسائل و مشکلات کے حل میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، اس کی اس ناکامی پر جب آواز بلند کی جاتی ہے تو وہ اس پر توجہ دینے کے بجائے اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آتی ہے۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے جماعت ِ اسلامی نے جس طرح توانا آواز بلند کی ہے وہ عوامی احساسات و جذبات کی ترجمان ہے۔ سندھ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طاقت کے زور پر احتجاج کے جمہوری حق کو سلب نہیں کیا جاسکتا، جب تک شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہیں دیے جائیں گے اس نوع کے احتجاج ہوتے رہیں گے، بااختیار شہری حکومت ہی شہر کے مسائل حل کرسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔