افضل گورو اور مقبول بٹ کے یوم شہادت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فروری کا مہینہ کشمیریوں کے لیے داغ ہائے سینہ کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے جن کے لیے زندگی ایک ایسے خوفناک ڈرامے کا منظر بن کر رہ گئی ہے جو ایک مقام پر رک گیا ہے۔ دہائیوں سے اس منظر کا ایکشن ری پلے جا ری ہے۔ جور وستم کا وہی انداز جو روز اوّل سے اپنایا گیا تھا، سر جھکانے اور حوصلے توڑنے کی وہی کوششیں، تعزیر وعتاب کے وہی طریقے ناموں اور کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ جا ری ہیں۔ ایک دور میں کسی کردار کا نام مقبول بٹ ہوتا ہے توکچھ مدت گزرنے کے بعد وہ کردار افضل گورو کی شکل میں اور کچھ عرصہ بعد وہی کردار ایک اور انداز سے امتیاز عالم کے نام سے سامنے آتا ہے۔ اسی طرح جبر کا کوڑا تھامنے والے کرداروں کو کسی دور میں اندراگاندھی تو کسی دور میں من موہن سنگھ اور نریندر مودی کہا جاتا ہے۔ دنیا بدل گئی، سردجنگ ختم ہو گئی، یونی پولر منظر کا عبوری دور بھی اب آخری ہچکیاں لے رہا ہے اور اس کی جگہ ملٹی پولر دنیا کی تشکیل قریب قریب مکمل ہو چکی ہے۔ وسط ایشیا سے مشرقی یورپ تک آزادیوں کی فیصل کو لہلہاتے ہوئے بھی زمانے گزر گئے مگر کشمیر یوں کے لیے وقت تھم کر رہ گیا ہے۔
11 فروری 1984 کو تہاڑ جیل میں قید کشمیری راہنما محمد مقبول بٹ کو ایسے جرم میں تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا کہ جو ان سے کوسوں دور برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہوا تھا۔ جس میں جذبہ حریت سے مغلوب چند نوجوانوں نے بھارتی سفارت کار رویندر مہاترے کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا اور اس ردعمل میں اندراگاندھی نے تہاڑ جیل میں قید محمد مقبول بٹ کو راتوں رات تختہ دارپر چڑھا دیا۔ یہ حقیقت میں کشمیریوں کو خوف زدہ کرنے اور انہیں آنے والے دنوں میں مطالبہ آزادی سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی مگر اس عمل کا ایسا ردعمل ہوا جس کی لہریں آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پوری طرح موجزن ہیں۔ اس مجنونانہ فیصلے کے چند ہی برس بعد کشمیر میں ایک ایسی عدیم النظیر تحریک چلی جس نے بھارت کے استخوان ہلا کر رکھ دیے۔ بھارت نے محمد مقبول بٹ کا جسد خاکی بھی ان کے اہل خانہ کو نہیں دیا اور انہیں تہاڑ جیل کے کسی گمنام گوشے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ وہ جس شخص کو بے نام ونشان رکھنا چاہتا تھا لاکھوں دل میں اس کی مرقد بن گئی۔ وہ اس گمنام گوشے کے اندر سے بھی بول رہا ہے۔ بھارت نے اس واقعے سے کوئی سبق نہ سیکھا اور کئی برس بعد 9 فروری 2013 کو بھارتی عدالت کے مقتول حریت پسند محمد افضل گورو کو عدالت کے ذریعے پھانسی کی سزا دی گئی۔
افضل گورو 1969 کو سوپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور کے تعلمی اداروں سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سری نگر کے جہلم ویلی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اسی دوران وہ کشمیر کی تحریک مزاحمت کا حصہ بنے۔ بھارتی حکام نے انہیں 13 دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ بھی ایک ایسا فالز فلیگ آپریشن ہے جسے بھارت نے مغرب کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے ’’نائن الیون‘‘ کے طور پر پیش کیا اور یوں مظلومیت کا ایک مشترکہ رشتہ قائم کر لیا۔ اس حملے کو دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت پر حملہ بنا کر پیش کیا گیا۔ بھارت نے افضل گور و پر ’’پوٹا‘‘ کے متنازع اور سیاہ قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا۔ ان کے مقدمے کے ابہامات پر بھارت کی عدالتوں نے کبھی توجہ نہیں دی کیونکہ اس وقت بھارت میں جمہوری ایوان پر حملے کے نام پر جذباتی ماحول اور فضا بنا دی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے بھارت کی ایک بعد دوسری عدالت سے ان کے خلاف فیصلے آنے لگے۔ عدالت ِ عالیہ کے بعد عدالت ِ عظمیٰ نے بھی ان کی سزائے موت برقرار رکھی۔ وادی میں بھارت نے پانچ اگست کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے عوام پر خوف دہشت کی رات مسلط کر رکھی ہے مگر کشمیری عوام سروں کے چراغ ہتھیلیوں پر رکھ کر میدان عمل میں موجود ہیں۔ کشمیری عوام کا روز اوّل سے مطالبہ تھا کہ بھارت محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کے اجساد خاکی کو کشمیر منتقل کرے تاکہ ان شہدائے وطن کو پورے اعزاز سے خاک وطن کا کفن پہنا دیا جائے۔
محمد افضل گورو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی اور بھارتی عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں عوامی ضمیر کو مطمئن کرنے کا جواز پیش کیا گیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ عدالت نے یہ فیصلہ محض اپنے عوام کو خوش کرنے کی خاطر کیا تھا۔ ظلم کی حد یہ کہ افضل گورو کی پھانسی سے پہلے نہ تو اہل خانہ سے ان کی ملاقات کرائی اور نہ ہی ان کا جسد خاکی ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ اس سے پہلے 11 فروری 1984 کو دہلی کی اسی تہاڑ جیل میں معروف حریت پسند محمد مقبول بٹ کو اسی طرح انتقام اور ردعمل میں پھانسی دی گئی تھی اور ان کے جسد خاکی کو بھی تہاڑ کے کسی گوشے میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی کشمیری عوام ان کا جسد خاکی مانگ رہے تھے مگر بھارتی حکومت ان کے غم زدہ بھائیوں کو گرفتار کر رہی تھی۔ بھارت کا یہ رویہ کشمیریوں کے دلوں کو زخمی کر رہا تھا اور ان زخموں کی ٹیسیں بعد میں کشمیریوں کی ایک زوردار مزاحمت کی شکل میں سامنے آئی تھیں اپنے عوام کو خوش کرنے کے لیے بھارت وقفے وقفے سے کشمیری راہنماؤں کو بلی چڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے افضل گورو کی پھانسی کو دنیا بھر کے منصف مزاج قانونی اور سیاسی ماہرین نے عدالتی قتل قرار دیا۔ ظلم کی انتہا یہ کہ بھارت کشمیریوں کو پھانسی دیتا ہے تو پھر ان کی لاشیں بھی اس خوف سے ورثاء کے حوالے نہیں کرتا کہ یہ مزار جدوجہد آزادی کے نشان اور علامتیں بنیں گی اور کشمیری عوام ان سے طاقت اور توانائی حاصل کرتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی طاقت اور توانائی حاصل کرنے کے لیے قبروں کا ہونا یا نہ ہونا اہمیت نہیں رکھتا اصل بات اس مقصد کی ہوتی ہے جس کی خاطر شہدا نے اپنی جان قربان کی۔ یوں گیارہ فروری کے بعد نو فروری اور کے پیچھے ایک ہی ذہنیت ہے کہ کسی طرح کشمیریوں کوحالات کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر مجبور کیا جائے مگر اِدھر صورت حال یہ ہے کہ: بڑھتا ہے ذوق ِ جرم یاں ہر سزا کے بعد
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد مقبول بٹ کشمیری عوام کرنے کے لیے افضل گورو جسد خاکی تہاڑ جیل بھارت نے کیا گیا کے بعد اور ان
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔