طلبہ تنظیموں پر پابندی لگاکر سماجی حقوق چھین لیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کے صدر زبیر آزاد ماچھی نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 9فروری 1984 کو اس وقت کے آمر حکمران جنرل ضیا الحق نے طلبہ سے ان کے سیاسی اور سماجی حقوق سلب کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی عائد کر دی، جسے بعد ازاں آنے والی نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بھی برقرار رکھا اور آمریت کی پیروی کی۔انہوں نے کہا کہ ضیا ء دور سے قبل تعلیمی اداروں میں طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاسی تربیت بھی حاصل کرتے تھے، اسی وجہ سے ایم آر ڈی کی تحریک سے لے کر ہر جمہوری بحالی کی جدوجہد میں طلبہ کا فعال کردار رہا اور آج بھی اسی دور کے طالب علم رہنما مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت اور حکومتوں کا حصہ ہیں۔زبیر آزاد ماچھی کا کہنا تھا کہ طلبہ یونینز پر پابندی کے بعد تعلیمی اداروں کی صورتحال بگڑ گئی، تعلیمی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا، نجی تعلیمی اداروں کی کمرشلائزیشن اور بیوروکریٹائزیشن کو فروغ ملا، تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی بڑھی اور غریب والدین کے بچوں سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے طلبہ یونینز کی بحالی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے 15فروری کو دوپہر ایک بجے سٹی گیٹ ہوٹل سے حیدرآباد پریس کلب تک ’’تعلیم بچائو، سندھ بچائو مارچ‘‘نکالا جائے گا اورمارچ میں حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ طلبہ یونینز بحال کی جائیں، تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے شفاف انتخابات کرائے جائیں، فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے، گریجویشن تک مفت اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے، نجی تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور نصاب و تعلیمی نظام کو جدید، سائنسی اور سیکولر بنایا جائے۔آخر میں انہوں نے صحافیوں، طلبہ و طالبات، مزدوروں، ہاریوں، اساتذہ، وکلاء اور ترقی پسند سوچ رکھنے والی تمام قوتوں سے اپیل کی کہ وہ 15فروری کی ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔