Jasarat News:
2026-06-02@23:30:41 GMT

سکھر،نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت ) تعلیمی اداروں میں طلبا یونین پر پابندی کے 42 سال مکمل ہونے پر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سکھر کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا. بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرے کی قیادت غلام حسین جسکانی اور سہیل میمن نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ پابندی نو فروری 1984ء کو جنرل ضیا الحق نے نوجوانوں کو جمہوری حق سے محروم رکھنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے عائد کی تھی اور اس نے اس مقصد کے لیے جنرل مارشل لا ضابطہ 60جاری کرکے طلبہ کو جمہوری عمل سے باہر کردیا تھا لیکن اس کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کی حکومتیں آتی رہی لیکن یونینز کی بحالی اور ان کے الیکشن کرانے کا وعدہ کسی حکومت نے پورا نہیں کیا۔ سندھ میں 18برس سے مسلسل برسراقتدار پیپلز پارٹی نے اسمبلی سے طلبہ یونین بحال کرنے کا بل تو پاس کرلیا مگر الیکشن کرانے سے قاصر رہی۔اس فیصلے سے تعلیمی اداروں میں منتخب نمائندگی کا خاتمہ ہوا، طلبہ مسائل کے حل کے لیے منظم فورم سے محروم ہو گئے اور قیادت سازی کا وہ قدرتی عمل منقطع ہو گیا جو یونینز کے ذریعے پروان چڑھتا تھا۔ ناقدین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ یونینز پر پابندی کے بعد غیر رسمی گروہ بندی، تشدد اور طاقت کے غیر جمہوری مراکز نے خلا پر کیا، جس سے تعلیمی ماحول مزید بگڑا۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ وقفے وقفے سے زور پکڑتا رہا ہے۔ اگر جمہوریت کو جڑوں تک مضبوط کرنا مقصود ہے تو تعلیمی اداروں میں منظم، ضابطہ بند اور منتخب طلبہ سیاست کی واپسی ناگزیر ہے تاکہ اختلاف کو تشدد کے بجائے مکالمے اور نمائندگی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ