سکھر،نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت ) تعلیمی اداروں میں طلبا یونین پر پابندی کے 42 سال مکمل ہونے پر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سکھر کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا. بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرے کی قیادت غلام حسین جسکانی اور سہیل میمن نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ پابندی نو فروری 1984ء کو جنرل ضیا الحق نے نوجوانوں کو جمہوری حق سے محروم رکھنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے عائد کی تھی اور اس نے اس مقصد کے لیے جنرل مارشل لا ضابطہ 60جاری کرکے طلبہ کو جمہوری عمل سے باہر کردیا تھا لیکن اس کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کی حکومتیں آتی رہی لیکن یونینز کی بحالی اور ان کے الیکشن کرانے کا وعدہ کسی حکومت نے پورا نہیں کیا۔ سندھ میں 18برس سے مسلسل برسراقتدار پیپلز پارٹی نے اسمبلی سے طلبہ یونین بحال کرنے کا بل تو پاس کرلیا مگر الیکشن کرانے سے قاصر رہی۔اس فیصلے سے تعلیمی اداروں میں منتخب نمائندگی کا خاتمہ ہوا، طلبہ مسائل کے حل کے لیے منظم فورم سے محروم ہو گئے اور قیادت سازی کا وہ قدرتی عمل منقطع ہو گیا جو یونینز کے ذریعے پروان چڑھتا تھا۔ ناقدین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ یونینز پر پابندی کے بعد غیر رسمی گروہ بندی، تشدد اور طاقت کے غیر جمہوری مراکز نے خلا پر کیا، جس سے تعلیمی ماحول مزید بگڑا۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ وقفے وقفے سے زور پکڑتا رہا ہے۔ اگر جمہوریت کو جڑوں تک مضبوط کرنا مقصود ہے تو تعلیمی اداروں میں منظم، ضابطہ بند اور منتخب طلبہ سیاست کی واپسی ناگزیر ہے تاکہ اختلاف کو تشدد کے بجائے مکالمے اور نمائندگی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔