اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے‘آئی جی سندھ کادعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار سے آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کی اہم ملاقات ہوئی جس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، کراچی میں اسٹریٹ کرائم، منشیات فروشوں کے خلاف جاری کارروائیاں، کچے کے علاقوں میں آپریشنز، دہشتگردی کے خطرات، ماہ رمضان المبارک کے سیکورٹی و ٹریفک انتظامات سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق بریفنگ دی۔آئی جی سندھ نے وزیر داخلہ کو کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ مؤثر حکمت عملی اور پولیس اقدامات کے نتیجے میں اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ نے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں اور پولیس کو مزید متحرک رہنے کی تاکید کی۔ ملاقات میں منشیات فروشوں کے خلاف سندھ بھر میں جاری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے ٹاسک فورسز کو منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزید سخت اور مؤثر کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات دیں تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔ آئی جی سندھ نے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشنز پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مربوط کارروائیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں کشمور، گھوٹکی، سکھر اور خیرپور کے کچے میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرینڈر پالیسی کے تحت مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں ڈاکو ہتھیار ڈال چکے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کارروائیوں سے جرائم پیشہ نیٹ ورک کمزور ہو رہے ہیں اور ریاستی رٹ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹریٹ کرائم وزیر داخلہ کے خلاف
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔