سندھ میں ہڑتال کے دوران گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں،ایس یو پی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جامشورو (نمائندہ جسارت) جامشورو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پارٹی صدر سید زین شاہ کی زیر صدارت جی ایم سید ایڈیفس جامشورو میں منعقد ہوا۔میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی صدر زین شاہ نے اپنے دیگر رہنماؤں سینئر ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین روشن علی بریرو، منیر نائچ، آفتاب خانزادہ، امیر آزاد، امیر علی تھیبو، منیر حیدر شاہ، پیر مطیع اللہ راشدی، مجیب ماچھی، ڈاکٹر برکت جتوئی، مختیار میمن، فتح خاصخیلی، سید سرگودھا، روشن مرگہ، سید مرگ،حبیب ماچھی، ڈاکٹر برکت جتوئی، مختیار میمن، فتح خاصخیلی، سید سرگودھا، روشن مرگہ، سید مرگ، روشن خان،قریشی، ہنجرا، یاسین، رمضان بریرو، خواجہ نوید امین، ڈاکٹر انعام بھٹی، رمضان برڑوکے ساتھ اِہم پر یس کانفرنس کر تے ہوئے جعلی الیکشن، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ، فارم 46،مختلف قوانین میں ترمیم کرکے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ، سندھ کے وسائل پر قبضے اور گذشتہ روز کی کامیاب شٹر بند ہڑتال کے دوران کارکنوں کو ہراساں کرنے کے خلاف غور کیا گیا۔سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے اجلاس میں مشترکہ طور پر پارٹی کارکنوں کے کام کو سراہا جنہوں نے 8 فروری کی ہڑتال کو کامیاب بنایا اور ہڑتال کو روکنے میں حکومتی پولیس کی مداخلت کی بھی مذمت کی۔ کارکنوں کے گھروں پر پولیس کے چھاپے، گرفتاریاں اور ہراساں کرنا بتاتا ہے کہ یہ حکومت عام لوگوں کو اپنے آئینی حقوق مانگنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اِجلاس میں سندھ بھر میں ہونے والی ہڑتال کے دوران گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہڑتال کی کامیابی اس ظالمانہ نظام کے خلاف عوامی بیداری، سیاسی بیداری اور اجتماعی مزاحمت اور نفرت کی واضح مثال ہے۔ اجلاس میں پارٹی کے تنظیمی شعبوں کا جائزہ لیا گیا اور ہر محاذ اور فورم کو فعال کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ اِجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رمضان شر یف کے دوران قومی کچہریوں اور افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ پارٹی کے پروگرام کو عام لوگوں تک پہنچایا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔