WE News:
2026-07-24@02:05:37 GMT

مولانا، افغانستان اور پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

مولانا فضل الرحمان صاحب نے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال پوچھا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی 78 سال میں ناکام کیوں رہی ؟  مولانا کے سارے احترام کے باوجود سوال یہ ہےکہ 78 سال کا یہ سارا مشاعرہ اس زمین پر کیوں؟ ایک غزل اس پر کیوں نہ ہو جائے کہ  افغان کی پاکستان پالیسی ان 78 سالوں میں کیا تھی؟

ہمارے ملک میں یہ ایک رسم سی بن گئی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی پاکستان کا کوئی مسئلہ ہو یا کوئی تلخی ہو، ہمارے ہاں پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے اور یہ بات اصول کے درجے میں طے کر لی گئی ہے کہ دوسرے ممالک نے جو بھی کیا ہو گا درست ہی کیا ہوگا البتہ پاکستان نے جو بھی کیا ہو گا، یقینا غلط کیا ہوگا۔ جب چیزوں کو اس اصول پر جانچا جائے گا تو پھر منطقی طور پر نتیجہ فکر یہی ہوتا ہے کہ: پاکستان کی افغان پالیسی 78 سال میں ناکام کیوں رہی ۔ یعنی ایک دو سال کی گنجائش بھی نہیں دی جا سکتی، ایک تو پاکستان کی پالیسی ناکام ہےاور دوسرا 78 سال سے ہی ناکام ہے۔

توجہ دلائی جائے تو کہا جاتا ہے کہ مولانا پاکستان کے شہری ہیں اس لیے وہ تو پاکستان ہی کی غلطیوں پر بات کریں گے۔ شہریت کا یہ نیا اصول بھی آدمی کو حیران دیتا ہے جس میں اپنی ریاست کو کبھی کٹہرے سے باہر نہیں آنے دیا جاتا اور فریق ثانی سے کبھی کوئی سوال نہیں ہوچھا جاتا ۔ امور خارجہ جب داخلی سیاست کا عنوان بن جائیں تو یہی ہوتا ہے۔ حقائق البتہ اس سے مختلف ہیں۔ اصلاح احوال کے لے ان حقائق  سے آگہی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

پاکستان معرض وجود میں آیا، افغانستان پڑوسی تھا، مسلمان بھی تھا لیکن اس نے کیا کیا؟ اقوام متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دے دیا۔ ( جو بعد میں اگر چہ واپس لے لیا گیا) لیکن کیا کسی کو احساس ہے اس سے پاکستان پر کیا بیتی؟

پاکستان کے وجود کو سب سے پہلے کس نے تسلیم کرنے سے انکار کیا؟ افغانستان نے۔

پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے سب سے پہلی کوشش کہاں سے ہوئی؟ افغانستان سے۔

 پاکستان کے خلاف پہلی فوج کشی کس نے کی؟ افغانستان نے۔

پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کس نے کیا؟ افغانستان نے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کو بطور گورنر جنرل پاکستان پہلی دھمکی کس ملک کے سفیر نے دی؟ افغانستان کے سفیر نے۔

پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کی ابتدا کس نے کی؟ افغانستان نے۔

پاکستان میں دہشتگردی کے لے پہلا کیمپ کس حکومت نے قائم کیا؟ افغانستان نے۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ببرک کس ملک کا باشندہ تھا؟ افغانستان کا۔

مزید پڑھیے: ایک تھا ونڈر بوائے

پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد کس نے رکھی؟ افغانستان نے۔

 پاکستان کے خلاف پہلی دہشتگرد تنظیم ’پشتون زلمے‘ کس کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی؟ افغانستان کی۔

بلوچستان میں شورش اور بغاورت کا سرپرست کون تھا؟ افغانستان۔

پاکستان کے علاقوں کو الگ ریاست بنا کر اس کی اسمبلی، اس کا پرچم تک کس ملک میں تیار ہوا؟ افغانستان میں۔

پاکستان کے ایک صوبے کو پشتونستان ملک قرار دے کر اس کا پرچم اپنے قومی پرچم کے ساتھ کون لہراتا رہا؟ افغانستان۔

یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کس ملک میں ہوا؟ افغانستان میں۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان نے قیام پاکستان کو حقیقت بنتے دیکھا تو تب کے افغان وزیر اعظم ہاشم خان کی سرپرستی میں پشتون زلمے قائم کر دی گئی اور طے کیا گیا پاکستان بنتے ہی یہ زلمے گڑ بڑ پھیلائے گی اور افغان فوج پاکستان پر حملہ کر دے گی۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ پشتون تحریک کے سید جمال شاہ کے مطابق اس سلسلے میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں افغان اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی زلفیں سنواری گئیں۔ اس میں چیف آف اسٹاف سردار داؤد، ان کے چچا وزیر دفاع سردار شاہ محمود اور ایک پاکستانی سیاسی رہنما شریک تھے۔ افغان بادشاہ ظاہر شاہ  تک نے لوئی جرگہ میں پاکستان کے خلاف تقریر کی۔

کیا یہ بھی سچ نہیں کہ بھارت میں افغانستان کے سفیر سردار نجیب اللہ نے کہا بس آج کل میں قبائلی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی مرکزی اسمبلی کا انتخاب کر کے حکومت قائم کر لیں گے۔

کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ افغان وزیر اعظم داؤد خان نے تو پاکستان میں بغاوت کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی اور اس کا قلمدان خود سنبھالا۔

کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ پاکستان کے سفارت خانوں پر افغانستان میں حملے کیے گئے اور وہاں لہراتے پاکستان کے پرچم اتار کر پشتونستان کے پرچم لگا دیے گئے۔

مزید پڑھیں: ہمارے شہر مر رہے ہیں

اس کے باوجود جب افغانستان پر مشکل وقت آیا تو پاکستان نے ہر طرح سے مدد کی۔ جدید دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا ملک بتا دیجیے جس نے مہاجرین کے لیے دل کے دروازے یوں کھولے ہوں جیسے پاکستان نے کھولے۔

پاکستان اب بھی صرف یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکی جائے۔ اس میں کیا غلط ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

افغانستان پاک افغان تعلقات پاکستان پاکستان سے افغانستان کی دشمنی پاکستان میں گڑبڑ کے پیچھے افغانستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان تعلقات پاکستان پاکستان سے افغانستان کی دشمنی پاکستان کے خلاف افغانستان نے پاکستان میں تو پاکستان نہیں کہ کے لیے کیا ہو کیا یہ کس ملک

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف