افغانستان میں لڑی گئی جنگیں جہاد نہیں تھیں،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایک تقریر میں مسالک کا ذکر کیا تو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں، فون دھمکیوں سے بھرا پڑا ہے۔
سیاست میں صبروتحمل کو فروغ دیا جائے، قومی مسائل پر جھوٹ نہیں بولوں گا، جب ایسی نوبت آئی تو سیاست سے کنارہ کش ہوجاوئوں گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی تاریخ کا دیانتداری سے سامنا کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد افغانستان پاکستان کو تسلیم کرنے والا آخری ملک تھا اور ابتدائی برسوں میں سرحدی کشیدگیاں بھی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دو جنگوں کا حصہ بنا جو افغانستان کی سرزمین پر لڑی گئیں اور وہ “جہاد” نہیں تھیں بلکہ بڑی طاقتوں کی جنگیں تھیں، مگر ہم نے ان تجربات سے سبق نہیں سیکھا۔
انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد بھی پاکستان دو دہائیوں تک ایک جنگ کا حصہ رہا، حالانکہ اس کے اصل ذمہ داروں پر آج تک اتفاق نہیں ہو سکا،ہم ابھی تک تاریخ سے انکار کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستانی قوم کو اپنی شناخت اس دھرتی سے جوڑنی چاہیے۔ اگر باہر سے بھی آئے تھے تو صدیاں گزر چکیں، اب اس مٹی سے رشتہ جوڑیں، اختلافات ہوں تو بھی سرحد پار نہ دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی مذمت میں بھی قومی سطح پر مکمل اتحاد نظر نہیں آتا۔ ہم اپنے اسپانسر باہر جا کر نہ ڈھونڈیں، کبھی واشنگٹن تو کبھی ماسکو کا رخ کرتے ہیں، انہوں نے اندرونی خود انحصاری اور سیاسی ہم آہنگی پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں