بسنت فیسٹول سے مریم نواز اور ن لیگ کو کتنا سیاسی فائدہ ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
تقریباً 18 سال کی پابندی کے بعد لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بسنت فیسٹیول کی بحالی نے نہ صرف شہر کی رونقیں بحال کی ہیں بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
6 سے 8 فروری تک جاری رہنے والے اس 3 روزہ میلے کو لیگی حکومت کی طرف سے ثقافتی ورثے کی حفاظت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، اس اقدام پر حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں اور حمایتیوں کی طرف سے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے، جو اسے سنگین قومی مسائل سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیسٹیول مسلم لیگ ن کو لاہور اور پنجاب کے شہری علاقوں میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے میں مدد دی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:
بسنت فیسٹیول کی تاریخ پنجاب کی ثقافتی شناخت سے جڑی ہوئی ہے، جو موسم بہار کی آمد کا جشن ہے اور صدیوں سے پتنگ بازی، موسیقی، اور سماجی تقریبات کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے۔
2005 میں لاہور میں بسنت کے دوران کئی حادثات پیش آنے کے بعد، جس میں دھاتی ڈوروں کی وجہ سے متعدد ہلاکتوں کے تناظر میں سپریم کورٹ نے اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اب مسلم لیگ کی حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ اس کی بحالی کا اعلان کیا، جس میں لاہور کو 3 حفاظتی زونز میں تقسیم کیا گیا، پتنگ بازی صرف مخصوص اوقات تک محدود رکھی گئی، اور دھاتی ڈوروں پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے میلے کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ بسنت ایک 800 سال پرانی روایت ہے جو بہار کی آمد اور نئی شروعات کی علامت ہے۔ ’یہ نہ صرف ہماری ثقافت کو زندہ رکھے گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دے گی۔‘
مزید پڑھیں:
انہوں نے مزید کہا کہ فیسٹیول کے دوران سیکیورٹی فورسز کی طرف سے 24 گھنٹے نگرانی کی گئی، اور کسی بھی حادثے کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، میلے نے اربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا کیں، جس سے پتنگ سازوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، اور ٹورزم انڈسٹری کو براہ راست فائدہ پہنچا۔
تاہم، اسلام آباد میں حالیہ دھماکے کے تناظر میں مریم نواز نے بسنت سے متعلق اپنی تمام ذاتی مصروفیات منسوخ کر دی تھیں، جس میں لبرٹی اسکوائر کا میگا شو بھی شامل تھا۔
بسنت فیسٹول کے انعقاد سے ن لیگ کو سیاسی فائدہ ہوا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، بسنت کی بحالی سے پنجاب میں خاص طور پر ن لیگ کو سیاسی فائدہ ملا ہے، جہاں پارٹی کو 8 فروری کے انتخابات کے بعد لاہور میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت واپس حاصل کرنے کی ایک اچھی کوشش سمجھا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:
چیف منسٹر مریم نواز کا یہ قدم ثقافتی بحالی کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے، جس نے عوامی تفریح اور ثقافتی فخر کو استعمال کر کے پارٹی کی امیج کو بہتر بنایا ہے۔
سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق بسنت منانے کا اصل فیصلہ نواز شریف کا تھا وہ چاہتے تھے کہ پنجاب میں میلوں کا رواج بحال ہو ، پہلے ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد بھی کیا گیا اس شو کو بھی پورے پنجاب میں کافی پذئرائی ملی جبکہ بسنت فیسٹیول نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔
’اس فیسٹول کے ذریعے معاشی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں ،بہت سے ممالک کے سفیروں نے لاہور میں پتنگ بازی کے فسیٹول کو انجوائے کیا ہے ،اس فیسٹول کی گونج پوری دنیا میں گئی ہے ،اگرچہ کچھ حادثات ہوئے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی حکومت نے کافی کنٹرول کیا ہے۔‘
ان کے مطابق وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے اب پورے پنجاب میں بسنت منانے کا عندیہ دیا ہے، اس سے ن لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ن لیگ کی عوامی حکومت کا تاثر بن رہا ہے، پنجاب میں پہلے ہی بہت سے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، شہروں کو خوبصورت بنایا جارہا ہے، اس ایونٹ سے مریم نواز اور ن لیگ کا بہتر امیج عوام کے سامنے آیا ہے ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت پنجاب فیسٹیول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیسٹیول مریم نواز لاہور میں کے مطابق کی طرف
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔