data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا:جماعت اسلامی بنگلادیش نے عام انتخابات کے لیے اپنا تفصیلی اور جامع انتخابی منشور جاری کردیا، جس میں  کرپشن فری، فلاحی اور جمہوری ریاست کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ایک ایسے تاریک دور کے بعد جب برسوں سے اقتدار پر قابض قوتوں نے کرپشن، جبر، انتخابی دھاندلی اور ادارہ جاتی تباہی سے بنگلادیش  کے چہرے پر سیاہ دھبہ لگا رکھا تھا، جماعتِ اسلامی خود کو ایک منظم، اصولی اور عوامی طاقت کے ساتھ بہترین متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جماعتِ اسلامی اب صرف ایک نظریاتی جماعت نہیں رہی بلکہ وہ ایک ایسی بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے جو عوامی حمایت، تنظیمی ڈھانچے اور واضح پروگرام کے ساتھ اقتدار کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ یہی مؤقف جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے بھی اپنے تازہ بیان میں دہرایا ہے۔

جماعتِ اسلامی بنگلادیش  کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا  ہے کہ صرف ایک سال پہلے ہماری جماعت کو غیر اہم سمجھا جا رہا تھا اور آج جماعت اکثریت کے دہانے پر کھڑی ہے۔

انہوں نے عالمی سیاسی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں باراک اوباما نے ’یس وی کین‘ کے نعرے کے ساتھ اس وقت کامیابی حاصل کی جب اخبارات یہ لکھ رہے تھے کہ ایک سیاہ فام شخص کبھی صدر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح سری لنکا اور نیپال میں بدعنوانی کے خلاف تحریکوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود بڑی سیاسی جماعتوں کو شکست دی جب کہ نیویارک میں ظہران ممدانی نے عام ووٹروں کے ساتھ کھڑے ہو کر کامیابی حاصل کی۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ’یہ عوام کی مرضی ہے، جب عوام متحد ہو جائیں تو انہیں کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہم نے کبھی دھونس یا جبر کا سہارا نہیں لیا، نہ آئندہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جعلی ووٹر نہیں  اور نہ ہمیں دھاندلی کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کسی نے عوام کے ووٹ کو چرانے یا ان کے جمہوری حق سے انکار کی کوشش کی تو ہم عوام کے ساتھ مل کر اس حق کا دفاع کریں گے، جیسا کہ ہم نے جولائی 2024 میں کیا تھا‘۔

مقامی سیاسی حلقوں اور عالمی سطح پر ڈاکٹر شفیق الرحمان کے اس بیان کو جماعتِ اسلامی کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور عوامی طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

منشور: صرف وعدے نہیں، اصلاحات کا مکمل خاکہ

جماعتِ اسلامی کا انتخابی منشور 88 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ملک کو ایک کرپشن فری، فلاحی، انسانی اور انصاف پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنے کا واضح منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ منشور وقتی نعروں یا غیر حقیقی وعدوں پر مبنی نہیں بلکہ قلیل، وسط اور طویل المدتی اہداف کے ساتھ تیار کیا گیا ایک عملی دستاویز ہے۔

حکمرانی کا نیا ماڈل اور طاقت کا ارتکاز ختم کرنے کا وعدہ

منشور کے مطابق جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ کر حکمرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرے گی۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کے دفتر میں غیر معمولی اختیارات کے ارتکاز نے ریاستی اداروں کو مفلوج کر دیا ہے۔

جماعت وعدہ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے گا۔ قانون سازی اور پالیسی سازی پارلیمنٹ کا اصل کام ہو گا۔ اپوزیشن کو پارلیمانی نگرانی میں مؤثر کردار دیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 70 میں ترمیم کر کے ارکانِ پارلیمنٹ کو آزادانہ رائے دینے کا حق دیا جائے گا۔

انتخابی نظام کی اصلاح اور ووٹ کے حق کی بحالی

جماعتِ اسلامی کے مطابق گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا حق پامال کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں کیئر ٹیکر حکومت کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا۔ تناسبی نمائندگی (PR) متعارف کرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کو مکمل آئینی و مالی خودمختاری دی جائے گی۔ پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی اور شفاف نگرانی۔ انتخابی اخراجات کی سخت حد بندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

زیرو کرپشن پالیسی: نظام کی جڑ سے صفائی

منشور میں کرپشن کو ریاستی زوال کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ جماعتِ اسلامی نے زیرو ٹالرینس پالیسی، وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ افسران کے اثاثوں کی عوامی تفصیل، غیر قانونی دولت کی ضبطی، سرکاری خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا بھی اعلان کیا ہے۔

قانون، انصاف اور انسانی حقوق

جماعتِ اسلامی نے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور سیاسی انتقام کے خاتمے کو ترجیح دی ہے۔ وعدوں میں پولیس اصلاحات، عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، نوآبادیاتی دور کے فرسودہ قوانین کا خاتمہ، گزشتہ 15 برس کے مظالم کی تحقیقات کے لیے ٹروتھ اینڈ ہیلنگ کمیشن شامل ہے۔

معیشت: دو ٹریلین ڈالر کا ہدف

جماعتِ اسلامی نے 2040ء  تک بنگلادیش کو دو ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا ہے۔ معاشی منصوبے میں بینکنگ سیکٹر کی اصلاح، نان پرفارمنگ لونز میں کمی، سرمایہ کاری دوست ماحول، ٹیکس نظام میں شفافیت، مہنگائی پر قابو، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع شامل ہیں۔

نوجوان: ریاست کا مستقبل

منشور کے مطابق نوجوانوں کو ریاستی قیادت میں مرکزی مقام دیا جائے گا۔ اس حوالے سے وعدوں میں آئی ٹی، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی میں تربیت، فری لانسنگ اور اسٹارٹ اپس کا فروغ، لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار، نوجوانوں کی کابینہ اور اداروں میں نمائندگی شامل ہے۔

خواتین: تحفظ، وقار اور خودمختاری

جماعتِ اسلامی نے خواتین کے حقوق کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف خصوصی ٹریبونلز، محفوظ عوامی ٹرانسپورٹ، تعلیم اور معاشی خودمختاری، وراثت اور جائیداد میں حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔

تعلیم اور صحت: بنیادی حقوق کا تصور

تعلیم میں یکساں قومی معیار، مرحلہ وار مفت تعلیم، مدرسہ اور عصری نظام میں ہم آہنگی، نصاب میں اصلاح کا اعلان کیا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں:

یونیورسل ہیلتھ کیئر، بچوں اور بزرگوں کے لیے مفت علاج، سرکاری اسپتالوں کی بہتری، ہیلتھ انشورنس شامل ہیں۔

زراعت، خوراک اور ماحولیات

جماعت اسلامی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کو مناسب قیمت، جدید زرعی ٹیکنالوجی، ملاوٹ سے پاک خوراک، 2030 تک زیرو ویسٹ اور زیرو فلڈ رسک کا ہدف شامل ہے۔

خارجہ پالیسی: بنگلادیش فرسٹ

خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، ہمسایہ ممالک سے برابری، مسلم دنیا سے تعلقات، روہنگیا مسئلے کا منصفانہ حل پر زور دیا گیا ہے۔

سیاسی منظرنامہ

سیاسی مبصرین کے مطابق جماعتِ اسلامی بنگلادیش کا انتخابی منشور ایسے وقت میں ایک روشنی کی صورت ابھرا ہے جب عوام برسوں سے روایتی اور انتقامی سیاست سے بیزار ہو چکے تھے۔

بنگلادیش میں اس وقت تازہ صورت حال یہ ہے کہ ڈاکٹر شفیق الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی خود کو ایک کرپشن فری، عوامی اور اصولی قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے مینڈیٹ دیا تو بنگلادیش کو ایک ایسا ملک بنایا جائے گا جہاں ووٹ باعزت، قانون بالادست اور ریاست عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمان اسلامی بنگلادیش جماعت اسلامی اسلامی نے کے طور پر شامل ہیں کے مطابق جائے گا کے ساتھ عوام کے کیا گیا کو ایک گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد