جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش: حکومت سنبھالنے کو تیار؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج سے دو دن بعد بنگلا دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ یوں 12 فروری 2026 بنگلا دیشیوں کے لیے ایک تاریخ ساز دن ہے۔ یہ دن اس لیے بھی تاریخ ساز ہے کہ سابق وزیر اعظم بنگلا دیش، شیخ حسینہ واجد کے 15سالہ استبدادی اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلی بار بنگلا دیش میں آزادانہ انتخابات کا ڈول ڈالا جارہا ہے۔ بھارت (جہاں حسینہ واجد نے فرار کے بعد پچھلے ڈیڑھ سال سے پناہ لے رکھی ہے) مایوس اور پریشان ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت کے اچانک خاتمے کے ساتھ ہی بنگلا دیش میں بھارت کی معاشی، سیاسی، سفارتی اور اسٹرٹیجک سرمایہ کاری کا جہاز خلیجِ بنگال میں ڈْوب چکا ہے۔ البتہ پاکستان بے حد مسرور اور پْراْمید ہے۔ بنگلا دیش کے پارلیمانی انتخابات سے پاکستان نے بلند اْمیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اِن انتخابات کے نتیجے میں جماعت ِ اسلامی جیتے یا بی این پی، دونوں ہی پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوں گی۔ اور اگر جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) مل کر، مخلوط حکومت بناتی ہیں، تب بھی یہ پاکستان کے لیے بہتر ہوگا کہ بی این پی(جنرل ضیاء الرحمن اور محترمہ خالدہ ضیاء) کی حکومتیں سابقہ ادوار میں پاکستان کے لیے اچھے تعلقات کی حامل رہی ہیں۔
یہ خبر الگ سے نہایت خوش کن ہے کہ 14 برس بعد بنگلا دیش کی قومی ائر لائن (بیمان ائر) کا جہاز 150مسافروں کو لے کر 30 جنوری2025 کو کراچی پہنچا ہے۔ اور یہ واقعہ بنگلا دیشی قومی انتخابات سے ٹھیک ڈیڑھ ہفتہ قبل ظہور میں آیا ہے۔ پاکستان نے کرکٹ کے میدان میں بنگلا دیش کا ساتھ نبھا کر بھارت سے کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام بنگلا دیشی اِس فیصلے پر پاکستان کے ممنون ہیں۔
پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، جناب اسحق ڈار، نے (اگست2025 کے آخری ہفتے) ڈھاکا کا دَورہ کیا تو اْنہوں نے ’’بی این پی‘‘ کے علیل سربراہ، محترمہ خالدہ ضیاء، اور جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کے سربراہ، جناب شفیق الرحمن، سے خصوصی طور پر تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں۔ اِن ملاقاتوں کے تزویراتی ثمرات بھی اب برآمد ہو رہے ہیں۔ جماعت ِ اسلامی پاکستان میں بھی ہے، بھارت میں بھی، بنگلا دیش میں بھی اور مقبوضہ کشمیر میں بھی۔ یوں ہم جماعت ِ اسلامی کی اہمیت سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔
پاکستان جب دو لخت ہو رہا تھا اور سابقہ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کے ایما پر بھارت کی تیار کردہ مکتی باہنی مشرقی پاکستان کو جدا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہی تھی، تب بھی اْن مساعد اور پْر آزمائش ایام میں جماعت ِ اسلامی مشرقی پاکستان نے پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کا جھنڈا پوری استقامت اور جرأت سے اْٹھاکر پاکستانی فوج کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اگر ہم جماعت ِ اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر، انجینئر خرم مراد مرحوم، کی معرکہ آرا تصنیف (لمحات) کا تفصیلی مطالعہ کریں تو ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے ٹوٹتے وقت جماعت ِ اسلامی کو مشرقی پاکستان کے کئی شہروں میں (پاکستان کی حمایت میں) کتنی قربانیاں دینا پڑی تھیں (واضح رہے یہ کتاب ’’لمحات‘‘ واقعات کے لحاظ سے اس لیے بھی زیادہ وقیع اور مستند ہے کہ مصنف اْن ایام میں خود ڈھاکا کے امیر ِ جماعت تھے اور بعد ازاں بھارت کے ہاتھوں جنگی قیدی بھی بنائے گئے)۔
بنگلا دیش بننے کے بعد جب شیخ مجیب الرحمن کی ’’عوامی لیگ‘‘ برسرِ اقتدار آئی تو اْنہوں نے جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش سے دل بھر کر انتقام لیا۔ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی سینئر قیادت کو صرف اس لیے ’’عوامی لیگ‘‘ نے ناقابل ِ بیان تشدد و تعذیب کا ہدف بنایا کہ جماعت نے 71ء کی جنگ کے دوران پاکستان اور پاکستانی فوج کا کھلم کھلا ساتھ دیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن سے جو کسر رہ گئی تھی، وہ اْن کی صاحبزادی، شیخ حسینہ واجد، نے اپنے 15 سالہ اقتدار میں یوں پوری کی کہ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور جماعت کو بنگلا دیش کے عام انتخابات میں حصہ لینے سے جبریہ روک دیا گیا۔
اِسی پر بس نہیں بلکہ شیخ حسینہ واجد نے ظالمانہ ’’انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل‘‘ بنا کر جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی متعدد سینئر بیگناہ قیادت کو ناجائز اور جعلی مقدمات میں لمبی لمبی سزائیں دے کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا اور 5 قائدین کو سْولی پر چڑھا دیا گیا: عبدالقادر ملا، قمر الزماں، علی احسن مجاہد، مطیع الرحمن نظامی اور میر قاسم علی!! قدرت کا انتقام دیکھیے کہ جس سفاک ٹربیونل کے تحت جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی سینئر قیادت کو پھانسیاں دی گئیں، اب اْسی ٹربیونل کے تحت 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
آج یہی جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش 12 فروری 2026 کے عام پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑی انتخابی جماعت کی صورت میں سامنے آ کھڑی ہْوئی ہے۔ پورے قد اور استقامت کے ساتھ! بنگلا دیش بھر میں جماعت ِ اسلامی نے اپنے اْمیدوار کھڑے کیے ہیں۔ بھارتی میڈیا واویلا کرتا سنائی دے رہا ہے کہ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش زیادہ سیٹیں لے کر جیتنے نہ پائے۔ ’’اگر ایسا ہْوا تو بنگلا دیش میں سیکولر ازم کا جنازہ نکل جائے گا‘‘۔ حالانکہ خود بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے تحت سیکولرازم کا جنازہ نکل چکا ہے۔
کئی بنگلا دیشی اور عالمی سروے اداروں (مثلاً: انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لا اینڈ ڈپلومیسی اور جاگو رون فائونڈیشن اور امریکی این جی او IRI) کے مطابق: اگر شفاف الیکشن ہْوئے تو بنگلا دیش جماعت ِ اسلامی کو 33 فی صد سے زیادہ اور بی این پی کو 37 فی صد سے زیادہ ووٹ پڑنے کے امکانات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جماعت ِ اسلامی اور بی این پی کا مقابلہNeck to Neck ہے۔ تیسری جانب بنگلا دیشی نوجوانوں کی ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ مقابلے میں کھڑی ہے۔ گویا بنگلا دیش میں بارہ فروری کے بعد ایک انوکھا انقلاب جنم لے رہا ہے۔
لاریب شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کو حیاتِ نَو ملی ہے۔ جماعت کے طلبہ وِنگ ’’اسلامی چھاترا شِبر‘‘ بھی انتخابات میں جماعت ِ اسلامی کے ساتھ میدان میں ہے۔ پاکستان میں جماعت ِ اسلامی کے انتخابی نشان (ترازو) کی طرح بنگلا دیش میں بھی جماعت ِ اسلامی کا انتخابی نشان ’’ترازو‘‘ ہے۔ امیر ِ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش (شفیق الرحمن) کے ساتھ ساتھ نائب امیر سید عبداللہ مجاہد طاہر بھی میدان میں ہیں اور جماعت کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور بھی۔ 2001 کے انتخابات میں جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش نے ’’بی این پی‘‘ سے انتخابی اتحاد کیا تھا اور پھر ’’بی این پی‘‘ کی حکومت بننے کے بعد جماعت ِ اسلامی کے دو ارکان خالدہ ضیاء کی کابینہ کے رکن بھی بنائے گئے۔ مگر اب 12 فروری کے انتخابات میں جماعت اور بی این پی دو مخالف قطبین پر کھڑی ہیں۔ ’’بی این پی‘‘ کے دَورِ حکومت میں بنگلا دیشی عدالت عظمیٰ نے جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کے (سابق) امیر، غلام اعظم، کی معطل شدہ شہریت بحال کی تھی۔
کہا جاتا رہا ہے کہ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش اپنی ہم وطن ہندو اقلیت کی ’’سخت مخالف‘‘ ہے۔ حالانکہ معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بنگلا دیشی ہندو ہیں جنہوں نے شیخ مجیب الرحمن اور حسینہ واجد کی حکومتوں کے دوران ہر موقع پر جماعت ِ اسلامی کی مخالفت کی تھی۔ بارہ فروری کے انتخابی منظر میں دیکھا جائے تو جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی قیادت اپنے ہم وطن ہندوئوں سے برادرانہ اور مشفقانہ سلوک کررہی ہے۔
اِس نے کئی ہندوئوں کو جماعت کے ٹکٹ بھی دیے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلا دیش کے معروف شہر ’’کھلنا‘‘ کے حلقہ وَن میں جماعت ِ اسلامی نے کرشنا نندی نامی ایک مشہور ہندو سیاستدان کو ’’ترازو‘‘ کا ٹکٹ دیا ہے۔ ’’کھلنا‘‘ میں ہندوئوں کی خاصی بڑی آبادی ہے، اس لیے کرشنا نندی کو جماعت ِ اسلامی نے اپنا ٹکٹ دے کر اچھا انتخابی و سیاسی فیصلہ کیا ہے۔ امیر ِ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش، ڈاکٹر شفیق الرحمن، خود کرشنا نندی کی الیکشن کمپین کررہے ہیں۔ اگلے روز ڈاکٹر شفیق الرحمن نے ’’کھلنا‘‘ کے ہندوحلقے میں جو تقریر کی ہے، اِس نے بنگلا دیشی ہندوئوں کے دل یہ کہہ کر جیت لیے ہیں کہ ’’بنگلا دیش صرف مسلمانوں ہی کا وطن نہیں، ہندوئوں کا بھی ہے اور ہم آپ کے جملہ حقوق کے نگہبان ہیں‘‘۔ (بشکریہ: ایکسپریس نیوز)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی بنگلا دیش کی شیخ مجیب الرحمن شیخ حسینہ واجد مشرقی پاکستان بنگلا دیش میں انتخابات میں بنگلا دیش کے شفیق الرحمن پاکستان کے بنگلا دیشی بی این پی کی حکومت کہ جماعت میں بھی کے ساتھ رہا ہے اس لیے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔