اٹلی میں دن دیہاڑے کیش وین لوٹنے کی فلمی انداز کی ڈکیتی ناکام، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اٹلی میں دن دیہاڑے پولیس کی وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے فلمی انداز میں کیش وین لوٹنے کی کوشش کی، تاہم یہ واردات ناکام بنا دی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق واقعہ اسٹیٹ روڈ 613 پر پیش آیا جہاں ملزمان نے ایک ٹرک سڑک کے درمیان کھڑا کر کے اسے آگ لگا دی۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکوؤں نے پولیس کی طرز پر گاڑیوں کی لائٹس روشن کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اہلکار کسی ہنگامی صورتحال پر قابو پا رہے ہیں۔ اسی دوران آرمرڈ کیش وین کے قریب دھماکا ہوا اور ملزمان کا پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
واقعے کے دوران سڑک پر موجود کئی شہریوں کو زبردستی گاڑیاں روکنے پر مجبور کیا گیا اور ڈاکوؤں نے ان سے نقدی اور قیمتی اشیاء بھی چھین لیں، تاہم کیش وین لوٹنے میں ناکامی رہی۔
فرار کی کوشش کے دوران ملزمان نے پولیس کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
Watch the moment masked robbers block Italy’s Lecce–Brindisi highway with a burning truck, blow open an armored cash van with explosives, and flee with the loot in broad daylight.
Follow: https://t.co/7Dg3b41hTx pic.twitter.com/h7JQOme7Ph — PressTV Extra (@PresstvExtra) February 9, 2026
حکام کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے اور فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیش وین
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک