واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مغربی کنارے میں استحکام سے اسرائیل محفوظ رہے گا۔

وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں استحکام خطے میں قیام امن کے امریکی ہدف کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے جاری کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے مغربی کنارے کے استحکام کو ضروری سمجھتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی، اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے۔

ادھر پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کو خطرناک اقدامات روکنے کا مطالبہ کر دیا۔

مسلم ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی حقِ خودمختاری نہیں اور یہ اقدامات مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان