9 واں انٹرنیشل پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مقابلہ کھاریاں میں اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
9 واں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مقابلہ کھاریاں میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، فیلڈ مارشل نے پیشہ وارانہ مہارت، جسمانی اور ذہنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے پر شریک ٹیموں کو سراہا، فیلڈ مارشل نے مشق میں مقابلہ کی صلاحیت اور لگن کی بھی تعریف کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ٹیم اسپرٹ مقابلہ 60 گھنٹوں پر مشتمل ایک سخت اور پیشہ ورانہ پیٹرولنگ مشق ہے، مشق کا مقصد شریک ٹیموں کے مابین جدید عسکری خیالات، حربی تجربات اور بہترین عملی مہارت سے استفادہ کرنا ہے۔یہ مشق 5 فروری سے پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں میں منعقد کی گئی، جس نے شرکاء کو ایک حقیقت سے قریب اور چیلنجنگ آپریشنل ماحول فراہم کیا، گزشتہ برسوں میں PATS ایک باوقار اور انتہائی مسابقتی عسکری مشق کے طور پر ابھری ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ مشق شریک ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت، باہمی سیکھنے اور عسکری تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ فورم عسکری روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک اور باہمی اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے۔اس سال مقابلے میں 19 ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی، جن میں بحرین، بنگلہ دیش، بیلاروس، مصر، عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، نیپال، قطر، سری لنکا، ترکیہ، امریکا اور ازبکستان شامل تھے، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ نے بطور مبصر تقریب میں شرکت کی۔پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16 مقامی ٹیموں کے علاوہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین بھی مشق میں شریک رہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ایسی بین الاقوامی مشقیں اجتماعی تیاری اور جدید حربی تکنیک اپنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، کردارسازی،جرات اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، یہ اقدار پاک فوج کی طرہ امتیاز ہیں، پاکستانی جوان خاص کر دہشت گردی میں اس کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔چیف آف ڈیفنس فورسز نے تمام شریک ٹیموں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جسمانی و ذہنی برداشت، صلاحیت اور بلند حوصلے کو سراہا۔تقریب کے اختتام پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکا میں انعامات تقسیم کیے۔ شریک ممالک کے بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشیوں نے مشق کے دوران اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، بہترین تنظیم اور نظم و ضبط کو سراہا۔بعد ازاں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں مختلف تربیتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا، جن میں نئے قائم کردہ ٹیکٹیکل سمیولیٹر کا دورہ بھی شامل تھا۔فیلڈ مارشل نے سمولیٹر تربیت کو روائتی تربیتی طریقہ کار میں معاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’کردار، جرأت اور قابلیت‘‘ وہ اوصاف ہیں جو پاکستانی سپاہیوں کی پہچان ہیں، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں ان اوصاف کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل پیشہ ورانہ چیف آف
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :