امریکاکیساتھ تجارتی معاہدےکیخلاف بھارتی کسانوں کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے کے خلاف بھارت کی کسان تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت زراعت کے شعبے میں بھارت نے غیر معمولی رعایتیں دی ہیں جو کسانوں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچائیں گی۔
بھارت کی بڑی کسان تنظیم سمیُکت کسان مورچہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں احتجاجی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی جبکہ 12 فروری کو پورے ملک میں ہڑتال بھی کی جائے گی۔
کسان قائدین نے امریکا کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کو غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی کسان برادری میں اس معاہدے پر شدید بے چینی، غصہ اور مایوسی پائی جاتی ہے۔
کسان تنظیموں نے معاہدے کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے اور اس سے بھارتی زرعی شعبے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ شرائط پر معاہدے پر دستخط کیے گئے تو ملک بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا، جبکہ بھارتی وزیر تجارت کے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔