اٹلی میں دن دیہاڑے پولیس کی وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے فلمی انداز میں کیش وین لوٹنے کی کوشش کی، تاہم یہ واردات ناکام بنا دی گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق واقعہ اسٹیٹ روڈ 613 پر پیش آیا جہاں ملزمان نے ایک ٹرک سڑک کے درمیان کھڑا کر کے اسے آگ لگا دی۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکوؤں نے پولیس کی طرز پر گاڑیوں کی لائٹس روشن کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اہلکار کسی ہنگامی صورتحال پر قابو پا رہے ہیں۔ اسی دوران آرمرڈ کیش وین کے قریب دھماکا ہوا اور ملزمان کا پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

واقعے کے دوران سڑک پر موجود کئی شہریوں کو زبردستی گاڑیاں روکنے پر مجبور کیا گیا اور ڈاکوؤں نے ان سے نقدی اور قیمتی اشیاء بھی چھین لیں، تاہم کیش وین لوٹنے میں ناکامی رہی۔

فرار کی کوشش کے دوران ملزمان نے پولیس کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

Watch the moment masked robbers block Italy’s Lecce–Brindisi highway with a burning truck, blow open an armored cash van with explosives, and flee with the loot in broad daylight.

Follow: https://t.co/7Dg3b41hTx pic.twitter.com/h7JQOme7Ph

— PressTV Extra (@PresstvExtra) February 9, 2026


حکام کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے اور فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کیش وین

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل