ایلون مسک کا مریخ سے پہلے چاند پر شہر تعمیر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسپیس ایکس کے بانی، دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی اب مریخ کے بجائے چاند پر ایک ’خودکار ترقیاتی شہر‘ قائم کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ایلون مسک کے مطابق ’لونر سٹی‘ بنانے کا مقصد انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے اور چاند اس کے لیے زیادہ تیز اور عملی راستہ فراہم کرتا ہے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ مریخ پر مشن بھیجنا صرف ہر 26 ماہ بعد سیاروں کی ہم آہنگی کے دوران ممکن ہوتا ہے اور وہاں پہنچنے میں تقریباً 6 ماہ لگتے ہیں جبکہ چاند پر مشن ہر 10 دن بعد لانچ کیا جا سکتا ہے اور سفر صرف 2 دن کا ہے، اسی وجہ سے چاند پر شہر کی تعمیر تیزی سے ممکن ہے۔
For those unaware, SpaceX has already shifted focus to building a self-growing city on the Moon, as we can potentially achieve that in less than 10 years, whereas Mars would take 20+ years.
The mission of SpaceX remains the same: extend consciousness and life as we know it to…
— Elon Musk (@elonmusk) February 8, 2026
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں واضح کیا ہے کہ مریخ پر شہر بسانے کا منصوبہ ختم نہیں کیا گیا تاہم اب یہ ثانوی ترجیح ہے، مریخ پر شہر بنانے کی عملی تیاری ممکنہ طور پر 5 سے 7 سال میں شروع کی جائے گی۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ قمری شہر (Lunar City) میں مصنوعی ذہانت، خودکار روبوٹس اور خلائی ڈیٹا سینٹرز استعمال کیے جائیں گے جنہیں مسک کی حالیہ حاصل کردہ کمپنی xAI کی مدد حاصل ہو گی، اس تعمیر کا مقصد یہ ہے کہ چاند پر کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا سکے۔
یہ فیصلہ امریکی خلائی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جاری ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت امریکا 2028ء تک چاند پر واپسی اور 2030ء تک مستقل قمری اڈے کے ابتدائی مراحل قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے جس میں چاند پر جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی آرٹمیس 3 مہم (Artemis 3 mission) کے تحت 2027ء میں خلاء بازوں کی چاند پر واپسی متوقع ہے تاہم ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس کے زیرِ تعمیر قمری لینڈر کی تاخیر کے باعث اس شیڈول میں مزید تبدیلی ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی