تیس ماہ باقی رہ گئے، ایلون مسک نے چونکا دینے والی وارننگ جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
تیس ماہ باقی رہ گئے، ایلون مسک نے چونکا دینے والی وارننگ جاری کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
امریکی ارب پتی ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیزی سے ہوتی توسیع کے نتیجے میں بجلی کے گرڈز پر پڑنے والے زبردست دباؤ کی وجہ سے تین سال سے بھی کم عرصے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تباہ ہونے کے بارے میں پوری دنیا کو ایک چونکا دینے والی وارننگ دے دی ہے۔
مسک نے جان کولیسن کے زیرِ اہتمام پوڈ کاسٹ ’’ چیکی پینٹ ‘‘کے ساتھ ایک طویل گفتگو میں تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات کا واضح جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 30 سے 36 ماہ کے اندر ہم اپنی توانائی کھو دیں گے۔
میری باتیں یاد رکھنا۔ آپ یہاں اس سے بڑے نہیں ہو سکتے۔ پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘کے مالک نے یہ بھی واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کی بجلی کی کھپت موجودہ گرڈز کی مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت سے زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش ہو سکتی ہے جو بنیادی ڈیجیٹل خدمات کے تسلسل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
غیر معمولی منصوبہ
اس خطرے پر قابو پانے کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے ٹیسلا کے سربراہ نے ایک غیر معمولی منصوبے کا انکشاف کیا جس کا مقصد کمپیوٹنگ صلاحیتوں کے ایک اہم حصے کو خلا میں منتقل کرنا ہے۔ اس اقدام میں لوئر ارتھ مدار میں دس لاکھ چھوٹے سیٹلائٹس چھوڑنا شامل ہے جو براہ راست شمسی توانائی سے چلنے والے سینٹرل پروسیسنگ یونٹس سے لیس ہوں گے اور بیرونی خلا میں شمسی تابکاری کے استحکام کا فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سورج خلا میں ہمیشہ موجود ہوتا ہے لہذا ہم زمین کی پابندیوں سے دور ان نظاموں کو چلانے کے لیے نہ ختم ہونے والی توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیری برداشت ختم ہوگئی میں اب سے پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں: جنید اکبر کا پیغام چابہار سے پیچھے ہٹنے کے بعد بھارت کا ایرانی تیل بردار جہازوں پر قبضہ، امریکی دباؤ یا سفارتی حکمت عملی؟ جاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی چین ، جمی لائی کو تین مقدمات میں20 سال قید کی سزا سنا دی گئی پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی بھارتی پالیسی ناکام ہو چکی ،ششی تھرورکا دو ٹوک اعتراف پاکستان میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں ، چینی وزارت خارجہ امریکی دباؤ کے آگے مودی کی پسپائی؟ کانگریس کے سنگین الزاماتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔