data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260210-01-23
واشنگٹن /لندن /تہران /ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ کینتھ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ڈالر کی قلت کے پیچھے امریکا کا ہاتھ تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینیٹر کیٹی الزبتھ نے پوچھا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے تحت کیا اقدامات کیے۔ امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے ایران میں ڈالر کا شدید بحران پیدا کیا، دسمبر میں ایک ایرانی بینک دیوالیہ ہوگیا اور بحران شدت اختیار کر گیا۔ اسکاٹ کینتھ نے بتایا کہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کے مرکزی بینک کو نوٹ چھاپنے پڑے جس سے ان کی کرنسی کی قدر گر گئی، کرنسی نوٹ چھاپنے سے ایران میں مہنگائی قابو سے باہر ہو گئی۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دباؤ کی پالیسی کے تحت واشنگٹن نے ایران کا آئل ایکسپورٹ بھی صفر کر دیا، اس سے معاشی دباؤ بڑھا جو دسمبر میں پرتشدد مظاہروں کا سبب بنا۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ روس نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے 2018ء میں ایران کو خفیہ طور پر تقریباً 2.

5 ارب ڈالر نقد رقم منتقل کی۔یہ رقوم روسی سرکاری بینک پرومسویاز بینک کے ذریعے34 بڑی ترسیلات میں تہران کے مرکزی بینک تک پہنچائی گئیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً 5 ٹن بتایا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ رقم اُس وقت بھیجی گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت پابندیاں عاید کی تھیں۔ ہر کھیپ کی مالیت 57 سے 115 ملین ڈالر کے درمیان تھی اور زیادہ تر نوٹ یورپی کرنسی کے بڑے مالیت والے بلوں پر مشتمل تھے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قوم سے خطاب کے دوران طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کی استقامت کو قرار دیدیا۔ تہران میں جاری ایک ٹیلی وژن خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر نے قومی طاقت کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل قوت جدید ہتھیاروں یا جنگی طیاروں میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی میں پوشیدہ ہوتی ہے‘ دشمن عناصر کی ایرانی قوم کو دباؤ میں رکھنے کی کوششیں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ مایوس نہ ہو جائیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل بھی کی کہ 11 فروری کو انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی جائیں تاکہ قومی یکجہتی کا اظہار ہو اور مخالف قوتوں کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایسے اجتماعات دشمن کے حوصلے پست کرنے اور عوامی اتحاد کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرۂ عرب میں تیل اسمگلنگ کے ایک مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3 آئل ٹینکرز کو تحویل میں لے لیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 100 بحری میل مغرب میں کی گئی، جہاں مشتبہ جہازوں کو روک کر مزید قانونی کارروائی کے لیے ممبئی منتقل کیا گیا۔بھارتی کوسٹ گارڈ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا پیٹرن تجزیے اور نگرانی کے نظام کے ذریعے ان جہازوں کی نشاندہی کی گئی۔ دوسری جانب ٹینکر ٹریکنگ فرم ٹینکر ٹریکرس اور ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضبط کیے گئے تینوں جہاز ایران سے منسلک ہیں اور یہ امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکے تھے۔رپورٹس کے مطابق ان جہازوں کے نام اے ایل جافزیا، اسفالٹ اسٹار اور اسٹیellar روبی ہیں، جبکہ ان میں سے ایک جہاز ایرانی پرچم کے تحت کام کر رہا تھا۔ایران میں اصلاح پسندوں کے اتحاد ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام کو گرفتار کرلیا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز جواد امام کو ان کے گھرسے گرفتارکیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ریفارم فرنٹ سے تعلق رکھنے والے 3 سیاستدانوں کوگرفتارکیا گیا ہے۔ایرانی عدلیہ کے مطابق گرفتار افراد پر ایران میں مظاہروں کے دوران ملک کو عدم استحکام سے دوچارکرنے اور امریکا و اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام ہے۔ ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل رضا طلائی نیک نے پیر کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج دشمنوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت یا حساب کتاب کی غلطی سے نمٹنے کے لیے انتہائی اعلیٰ درجے کی تیاری کی حالت میں ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام، مسلح افواج کی دفاعی تیاریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں‘ ہم کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ملک کا پہیہ یا ترقی کا سفر رک جائے‘ دفاعی صلاحیت کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کا عمل مزید تیز رفتاری سے جاری رہے گا۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر نے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری اور دفاع ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں‘ پیر کو پارلیمنٹ کے ایک غیر اعلانیہ اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ اراکینِ پارلیمنٹ نے سفارتی اور دفاعی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے‘ ایران کسی بھی امریکی اور اسرائیلی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ کے شعلے پوری خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں کیا ہے کہ کے مطابق نے ایران کسی بھی کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی