سانحہ گل پلازا: چیف فائر افسر کا جواب عدالت میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سانحہ گل پلازا کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کے دوران چیف فائر افسر نے سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کروا دیا۔
دوران سماعت چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عمل کرانا فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، فائر بریگیڈ حکام نے 2021ء میں گل پلازا میں فائر سیفٹی سروے کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مشاہدات اور فائر سیفٹی انتظامات میں خامیوں پر گل پلازا انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا، گل پلازا میں آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ نے آپریشن میں حصہ لیا، فائر بریگیڈ کا ایک اہلکار فرقان گل پلازا آپریشن کے دوران شہید ہوا۔
یہ بھی پڑھیے کراچی چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر سانحہ گل پلازا کے متاثرین کیلئے کام کر رہے ہیں، مراد علی شاہ سانحہ گل پلازا، سندھ حکومت کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلانچیف فائر افسر کا کہنا ہے کہ گل پلازا میں آتشزدگی کی اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر موصول ہوئی، پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 27 منٹ پر روانہ ہوا، فائر بریگیڈ حکام نے مختلف عمارتوں میں فائر سیفٹی سروے کیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف فائر افسر نے کہا کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر فائر سروے سے متعلق میٹنگ اور سروے کرتے ہیں، چیف سیکریٹری نے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے تحت فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیاں بنائی ہیں، کمیٹیاں دیگر محکموں کے ساتھ مل کر کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازا چیف فائر افسر فائر بریگیڈ فائر سیفٹی کے دوران
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔