روات، ٹیکسٹائل فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی، 15 گھنٹے سے ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
روات انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے ریسکیو 1122 کا بھرپور آپریشن مسلسل جاری ہے۔
آگ بھڑکنے کے بعد سے اب تک 15 گھنٹے گزر چکے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں بدستور مصروفِ عمل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق 21 ایمرجنسی گاڑیوں اور 80 سے زائد فائر فائٹرز آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
اب تک 4 لاکھ لیٹر سے زائد پانی استعمال کیا جا چکا ہے جبکہ آگ پر تقریباً 75 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔ شعلوں کو مکمل طور پر بجھانے کے لیے فوم ملا پانی مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔
شدید حرارت اور طویل دورانیے کی آگ کے باعث فیکٹری کی عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس کے کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر ریسکیو اہلکار محفوظ فاصلے سے فائر فائٹنگ کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے اندر بڑی مقدار میں آتش گیر سامان موجود ہے جس کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ریسکیو 1122 راولپنڈی کے مطابق قریبی اضلاع سے بھی فائر ٹینڈرز اور اضافی عملہ طلب کیا گیا ہے تاکہ آگ پر مکمل قابو پایا جا سکے۔ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔