روات، فیکٹری میں لگنے والی آگ بے قابو، پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
راولپنڈی کے انڈسٹریل اسٹیٹ روات میں کپڑے و پولیسٹر کی رضائیاں بنانے والی فیکٹری و گودام میں لگنے والی آگ شدت اختیار کرنے کے بعد بے قابو ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق روات میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کی شدت کے پیش نظر اسلام آباد، واسا اور دیگر اضلاع سے امدادی اداروں کے فائر بریگیڈ کو بھی طلب کرلیاگیا۔
ریسکیو 1122 کی سربراہی میں آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ آپریشن مسلسل جاری ہے پولیسٹر فائبر سمیت آگ پکڑنے والا دیگر میٹریل موجود ہونے کے باعث آگ ریسکیو کو آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق روات انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں شام چار بجے کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 راولپنڈی کی دس ایمرجنسی وہیکلز اور فائر ٹینڈر سمیت 30 سے زائد ریسکیو رضاکار موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔
فیکٹری و گودام میں بڑی مقدار میں آگ پکڑنے والا میڑیل موجود ہونے کے باعث اگ کی شدت زیادہ ہوگئی۔ جس پر ریسکیو 1122 کی شہر سمیت دیگر اضلاع سے مزید وہیکلز اور اسٹاف سمیت اسلام آباد ،واسا اور بحریہ ٹاؤن کے فائر بریگیڈ کو موقع پر طلب کرلیاگیا۔
مزید پڑھیںلاہور؛ نجی ہوٹل میں آتشزدگی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ تیار، آگ لگنے کی وجہ سامنے آگئی
گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد کیا منظر تھا؟ رپورٹرز کا آنکھوں دیکھا حال
گلبرگ کے علاقے میں آتشزدگی، ہوٹل کے مالک سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کا علم نہ ہوسکا تاہم آگ کی شدت بڑھنے پر تمام ضلع کے ریسکیو فائر فائٹرز کو موقع پر طلب کرلیاگیا ہے۔
ڈسڑکٹ ایمرجنسی آفیسر راولپنڈی ریسکیو 1122 صبغت اللہ خود فائر فائٹنگ آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں اور موقع پر 13 ایمرجنسی گاڑیوں سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکارآپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد سمیت واسا اور بحریہ ٹاؤن کے فائر بریگیڈ کی معاونت بھی حاصل ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد سلیم کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے واسا کے وسائل مکمل طور پر بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ ریسکیو اداروں کے ساتھ واسا راولپنڈی کا بھرپور اشتراک ہے اور آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے پانی کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں شدید آتشزدگی و ہنگامی صورتحال کے باعث راولپنڈی پولیس حکام بھی جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
ایس ایچ او روات انسپکٹر زاہد ظہور کا ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہناتھاکہ فیکٹری و گودام تقریباً چار کنال پر محیط ہے بیسمنٹ سمیت تین منزلیں ہیں، جہاں تقریبا تین کنال کے گودام میں امپورٹ کی ہوئی پولیسٹر کی رضائیاں اور جائے نمازوں وغیرہ کا بڑا اسٹاک بھی موجود تھا اور فیکٹری میں بھی اشیاء تیار کی جاتی تھیں۔
تاہم جب آف لگی تو فیکڑی و گودام پر صرف چوکیدار موجود تھے جو فرنٹ اور ایک عقبی جانب ڈیوٹی پر تھے وہ محفوظ ہیں انسپکٹر زاہد ظہور کا کہنا تھاکہ اگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی فائر فائٹنگ مکمل ہونے کےبعد مزید صورتحال واضح ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر قابو پانے ریسکیو 1122 کے مطابق
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ