City 42:
2026-07-24@01:15:48 GMT

لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی بسنت، شہری تہوار کے لیے کتنے تیار؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

ویب ڈیسک : رنگوں اور خوشبوؤں کا تہوار بسنت لاہور کے بعد اب وادی کوئٹہ میں بھی پہنچ گیا ہے۔ شہر میں بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور 13 سے 15 فروری تک پتنگ بازی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

بسنت کی تقریبات کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں منعقد ہوں گی، جہاں پتنگ بازی، موسیقی اور مقامی ثقافتی رنگ نمایاں ہوں گے۔ شہر میں پہلے ہی پتنگوں، ڈور اور بسنت سے متعلق اشیا کی فروخت شروع ہو چکی ہے، جس کے باعث بازاروں میں گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار

دکانداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز میں پتنگوں کی فروخت میں واضح اضافہ ہوا ہے، جبکہ نوجوان طبقہ بسنت کے تہوار کو لے کر خاصا پرجوش دکھائی دے رہا ہے۔

کوئٹہ کے باسی محمد شعیب نے کہا کہ کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں تفریحی مواقع محدود ہیں، بسنت جیسے ثقافتی تہوار نہ صرف عوام کے لیے خوشی کا باعث بنتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے بعد کوئٹہ میں بسنت کا انعقاد شہر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرے گا اور سیاحت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

بسنت پر 20 ارب کا کاروبار ہوا؛ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن

دوسری جانب بعض شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ بسنت کی تقریبات کو قانونی اور محفوظ دائرے میں رکھا جائے تاکہ ماضی کی تلخ یادیں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مناسب نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے تو بسنت ایک صحت مند اور خوشگوار تہوار بن سکتا ہے۔

منتظمین کے مطابق 13 سے 15 فروری تک جاری رہنے والی بسنت کی تقریبات کوئٹہ میں ایک نئے ثقافتی باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے شہریوں کو روزمرہ کے مسائل سے کچھ دیر کے لیے نجات اور خوشیوں کے رنگ میسر آئیں گے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے درگاہ میں نماز پڑھنے اورعید پر قربانی کرنے سے روک دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کوئٹہ میں

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو