لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی بسنت، شہری تہوار کے لیے کتنے تیار؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : رنگوں اور خوشبوؤں کا تہوار بسنت لاہور کے بعد اب وادی کوئٹہ میں بھی پہنچ گیا ہے۔ شہر میں بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور 13 سے 15 فروری تک پتنگ بازی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
بسنت کی تقریبات کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں منعقد ہوں گی، جہاں پتنگ بازی، موسیقی اور مقامی ثقافتی رنگ نمایاں ہوں گے۔ شہر میں پہلے ہی پتنگوں، ڈور اور بسنت سے متعلق اشیا کی فروخت شروع ہو چکی ہے، جس کے باعث بازاروں میں گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار
دکانداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز میں پتنگوں کی فروخت میں واضح اضافہ ہوا ہے، جبکہ نوجوان طبقہ بسنت کے تہوار کو لے کر خاصا پرجوش دکھائی دے رہا ہے۔
کوئٹہ کے باسی محمد شعیب نے کہا کہ کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں تفریحی مواقع محدود ہیں، بسنت جیسے ثقافتی تہوار نہ صرف عوام کے لیے خوشی کا باعث بنتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے بعد کوئٹہ میں بسنت کا انعقاد شہر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرے گا اور سیاحت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بسنت پر 20 ارب کا کاروبار ہوا؛ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
دوسری جانب بعض شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ بسنت کی تقریبات کو قانونی اور محفوظ دائرے میں رکھا جائے تاکہ ماضی کی تلخ یادیں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مناسب نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے تو بسنت ایک صحت مند اور خوشگوار تہوار بن سکتا ہے۔
منتظمین کے مطابق 13 سے 15 فروری تک جاری رہنے والی بسنت کی تقریبات کوئٹہ میں ایک نئے ثقافتی باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے شہریوں کو روزمرہ کے مسائل سے کچھ دیر کے لیے نجات اور خوشیوں کے رنگ میسر آئیں گے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے درگاہ میں نماز پڑھنے اورعید پر قربانی کرنے سے روک دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کوئٹہ میں
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔