Express News:
2026-07-24@01:00:52 GMT

بسنت کا جشن

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

چھ، سات اور آٹھ فروری کو بسنت کا تہوار لاہور میں پورے جوش و خروش سے منایا گیا۔ دن بھر ٹیلی وژن کے تمام چینلزنے بھی بسنت کے تہوار پر نت نئے پروگرام پیش کیے اور شہریوں کی خوشی کو دوبالا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

لاہور میں شہریوں کی خوشی دیدنی تھی کہ پچیس برس کے بعد بسنت منائی جا رہی ہے۔ جب بھی بسنت منائی جاتی یا پتنگ بازی ہوتی ہے ، آسمان پر رونق بڑھاتی پتنگوں کے علاوہ بجلی کے تاروں اور درختوں کے ساتھ الجھ کر لٹکی ہوئی پتنگیں بھی نظر آتی ہیں۔بسنت کے اس موقع پر لوگ زبانی، سوشل میڈیا پر اور ٹیلی وژن کے اشتہارات میں بھی وزیر اعلی لاہور کا شکریہ ادا کرتے نظر آئے ۔

بسنت کے اس تہوار پر جس طرح شہریوں خاص طور پر نوجوانوں نے حصہ لیا اس نے نہ صرف لاہوریوں بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں سے بسنت منانے لاہور آنے والے لوگوں کے بھی دل جیت لیے ہیں۔ دوسرے صوبوں سے آنے والے سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کی تعریف اور اپنی صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے نوجوانوں کی تفریح اور خوشی کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔ واقعی لہور لہور ہے،نئیں ریساں لاہور شہر دیاں۔

اس بار حکومتی اعلان ہوا کہ چھ، سات اور آٹھ فروری کو بسنت کا فیسٹیول ہو گا، سو اہلیان لاہور طویل ویک اینڈ کا لطف منائیں۔ پانچ دن کی مسلسل چھٹی کا اعلان کیا گیا تو لوگ اتنے خوش ہوئے کہ وہ ان چھٹیوں کو زیادہ سے زیادہ انجوائے کرنے کے لیے نت نئے پروگرام بنانے لگے کچھ لوگ مری اور دوسرے صحت افزاء مقامات کی طرف نکل گئے۔

لاہور میں بسنت کا اعلان ہوتے ہی صوبے کے باقی شہربھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔لاہور میں تو جو بسنت کا جشن منایا گیا اسے دوسرے شہروں کے رہنے والے سوشل میڈیا پر دیکھتے رہے باقی شہروں میں بھی پتنگوں اور ڈور کا کاروبار چمک اٹھا تھا۔ اگرچہ قاتل ڈور سے بچنے کا بندوبست کر دیا گیا تھا کہ ہر موٹر سائیکل سوار اپنی موٹر سائیکل کے سامنے لوہے کی راڈ لگوا کر باہر نکلے گا۔ کسی بھی ایمرجنسی کے لیے ایمبولینس بھی تھیں اور شہریوں کو مفت پبلک ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی گئی تھیں۔ لاہور میں عمارتوں کی چھتیں مہنگے داموں بک ہوئیں۔

  لاہوریے تو شروع ہی سے عرس میلوں اور جشن منانے کے شوقین ہیں۔ ان کے ہاں محاورہ مشہور ہے کہ ہفتے دے ست دن اور اٹھ میلے ‘کار جاواں کیڑے ویلے‘  (ہفتے کے ساتھ دن اور آٹھ میلے گھر جاؤں کس وقت)  لوگ بتا رہے تھے کہ بسنت 25 سال بعد منائی جا رہی ہے لہٰذا وہ بچے اور نوجوان جو اس دوران پیدا ہوئے انھوں نے پہلی بار اپنی زندگی میں اتنا بڑا جشن دیکھا،وہ بھی جو ہر گلی اور محلے میں منایا جا رہا تھا۔ نوجوان جن کے لیے پہلے ہی تفریح کے مواقع انتہائی کم ہیں انھوں نے بسنت کے تہوار پر انتہائی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا،جا بجا گھروں کی چھتوں پر باربی کیو کا انتظام تھا،لہٰذا چار راتیں چھتوں پر مسلسل جاگتے، تکے کباب کھاتے ،پتنگیں اڑاتے اور موسیقی سنتے گزریں۔ بچوں اور نوجوانوں کا جوش تو دیدنی تھا ہی ،بہت سی گھریلو خواتین نے بھی بسنت کے تہوار پر خوشی کا خوب اظہار کیا، اپنے گھر کے مردوں کے ساتھ وہ بھی پورے جوش سے بو کاٹا کے نعرے لگاتی اورخوشی کا اظہار کرتی رہیں۔

قوم کو ایک عرصے بعد خوشی کا موقع ملا تھا لہٰذا امیروں نے جہاں خوب پیسے کا استعمال کیا وہاں عام شہری بھی جشن منانے میں پیچھے نہیں رہے۔ جمعہ والے دن رات بارہ بجے بسنت کا افتتاح ہوتے ہی ہر طرف پتنگیں اڑتی نظر آئیں، ان کی تیاریاں قابل دید، دل کی دھڑکنیں ’’ بو کاٹا‘‘ کا ورد کرتی ہوئیں اور ان کے پیچے لگانے کے انداز ثابت کررہے تھے کہ واقعی بسنت نے شہریوں کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ لوگوں نے خوب لطف اٹھایا، پتنگیں اور ڈوریں بیچنے والوں نے بھی خوب پیسہ کمایا ، ہوائی سفر کی ٹکٹیں بھی ڈبل سے زیادہ قیمت پر بکیں، پیلے جوڑوں کی خریداری پر بھی خواتین نے خوب پیسہ لٹایا۔ جن لوگوں کے گھروں کی چھتیں اچھی تھیں ، انھوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے، ہوٹلوں کی چھتیں، مارکیٹوں کی چھتیں تو اتنے سالوں کے بعد کمائی کا ذریعہ بن گئیں اور اب تو بہت سے کاروباری لوگ اگلے سال بسنت کے تہوار پر زیادہ سے زیادہ کاروباری منافع کمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

 تین دنوں میں اربوں روپے کا کاروبار ہوا، لوگوں کو روزگار ملا۔پوری دنیا میں فیسٹیول اور کھیلیں کاروبار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔اگر ہم نے اپنے ملک میں کاروبار کو ترقی دینی ہے تو زیادہ سے زیادہ فیسٹیول اور کھیلوں کا اہتمام کرنا ہوگا ،اس سے جہاں نئے نئے روزگار پیدا ہوں گے وہاں ہر وقت موبائل میں گم نوجوان ،جنھوں نے موبائل دیکھ دیکھ کر اپنی آنکھیں اور صحت کمزور کرلی ہے،وہ بھی صحت مند کھیلوں کی جانب راغب ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بسنت کے تہوار پر لاہور میں انھوں نے سے زیادہ کی چھتیں بسنت کا خوشی کا نے بھی کے لیے

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا