8 فروری کو جو کچھ ہوا، ہم بھولنے نہیں دیں گے: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو جو کچھ ہوا، وہ ہم کسی کو بھولنے نہیں دیں گے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری کو الیکشن میں جو کچھ ہوا، وہ ووٹ کی نفی تھی ہم بھولنے نہیں دیں گے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہڑتال بڑا سیاسی لائحہ عمل ہوتا ہے،ہڑتال میں ضروری نہیں گولیاں کھاکر باہر نکلیں.
جموں و کشمیر عوامی دست و بازو پارٹی کا پہلا یوم تاسیس دبئی میں منایا گیا
انہوں نے مزید کہا بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تشویش برقرار ہے تاہم سپریم کورٹ نے بانی سے سلمان صفدر کو ملاقات کی اجازت دی ہے یہ اچھی پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا 8 فروری کو جس جس نے ہڑتال کا ساتھ دیا ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، نوجوانوں کی امید ایک نئی ابتدا کرے گی، ہماری جدوجہد جاری ہے،ان سڑکوں پر چلنا ہمارا حق ہے، پتنگ بازی ٹافیاں ہیں.یہ ایک دن کا کھیل ہے ۔
آج سلمان صفدردوپہر 2 بجے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے،آج بانی سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کا دن ہے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ فروری کو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔