امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کا فیصلہ دوسروں کو نہ کرنے دے، اسمعیل بقائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
قابض صیہونی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے بارے صحافیوں کے سوال کے جواب میں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کا فیصلہ نہ کرنے دے! اسلام ٹائمز۔ صحافیوں کے ساتھ ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے خارجہ پالیسی کے میدان میں تازہ ترین ملکی پیشرفت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آغاز میں، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے اسمعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جو راستہ ہم نے سختیوں اور تلخیوں کے باوجود طے کیا ہے، وہ ایران کی آزادی، ملکی خودمختاری، قومی سلامتی و جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے مقصد میں مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔
قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دورہ امریکہ کے بارے سوال اور اس دعوے کے جواب میں کہ اس دورے کا مقصد امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا مذاکراتی فریق امریکہ ہے اور یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ اس دباؤ اور تباہ کن اثر و رسوخ سے آزاد رہتے ہوئے کام کرنے کا فیصلہ کرے کہ جو یقینی طور پر نہ صرف امریکی مفادات بلکہ پورے خطے کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک حصہ؛ اسرائیلی مطالبات کی پاسداری اور ان کی تعمیل رہا ہے کہ جو گذشتہ 8 دہائیوں سے ہمارے خطے میں عدم تحفظ اور سلامتی کے مسائل کی بنیادی وجہ بھی ہے۔
اسمعیل بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مصنوعی بحران میں تبدیل کرنے کی سازش قابض صیہونی ریجیم نے تیار کی تھی کہ جو تقریباً 40 سال سے یہی بیانات دہرا رہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں ہے اور یوں وہ دنیا بھر میں ایک قسم کا خوف پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قابض ریجیم نے بارہا عملی طور پر ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ ہمیشہ ہی تخریبکاری میں مشغول رہتی ہے۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی ملکی خارجہ پالیسی کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہ دے!!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی کا اسمعیل بقائی کا فیصلہ ہے کہ وہ کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔