سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ سے مفت فراہم کردہ درسی کتب لازمی واپس لی جائیں: محکمۂ تعلیم سندھ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
محکمۂ تعلیم سندھ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ سے مفت فراہم کردہ درسی کتب لازمی واپس لی جائیں۔
اس حوالے سے محکمۂ تعلیم سندھ کے ترجمان نے ہدایت کی ہے کہ رزلٹ کارڈ پر درسی کتب کی واپسی کا اندراج کیا جائے، جاری اور واپس ہونے والی کتابوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔
مطابق طالبات اور خاتون اساتذہ کی فوٹو گرافی کا سوشل میڈیا پر غلط استعمال کیا گیا: نوٹیفکیشن
ترجمان نے کہا کہ تمام جمع شدہ کتابیں اسکول بُک بینک میں محفوظ کی جائیں۔
پرائمری سے ہائیر سیکنڈری تک تمام طلبہ سے کتابوں کی واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ ضلعی تعلیمی افسران اسٹاک ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو جمع کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔