صدر زرداری کا ازبک صدر کی دعوت کا خیرمقدم، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
صدر زرداری کا ازبک صدر کی دعوت کا خیرمقدم، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس ) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان، ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے حالیہ تاریخی اور نتیجہ خیز سرکاری دورۂ پاکستان کے ثمرات پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
صدرِ مملکت نے یہ بات جمہوریۂ ازبکستان کے پاکستان میں سفیر مسٹر علیشر تختائیف سے ملاقات کے دوران کہی، جنہوں نے ایوانِ صدر میں صدر زرداری سے ملاقات کی اور ازبک صدر شوکت مرزیایوف کا خط ان کے حوالے کیا۔
اپنے خط میں ازبک صدر نے صدر زرداری، حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان کا اپنے دورے کے دوران شاندار مہمان نوازی اور پُرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نشانِ پاکستان، جو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے، نیز اعزازی پروفیسرشپ اور ڈاکٹریٹ عطا کیے جانے پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
صدر زرداری نے خوراک و زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، صحت اور بینکاری سمیت اہم شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ازبکستان کی جانب سے پاکستان سے حلال گوشت، پھل اور آلو درآمد کرنے میں دلچسپی کو دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
صدر مرزیایوف نے صدر زرداری کو اپنی دعوت کا اعادہ کیا، جو اس سے قبل دونوں رہنماؤں کی بالمشافہ ملاقات کے دوران دی گئی تھی۔ صدر زرداری نے دعوت قبول کرتے ہوئے پاکستانی حکام کو ہدایت کی کہ وہ ازبک ہم منصبوں سے رابطہ کر کے رواں سال کے دوران دورے کو حتمی شکل دیں۔
صدرِ مملکت نے اسلام آباد میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد یکجہتی اور حمایت کے پیغام پر صدر مرزیایوف کا شکریہ بھی ادا کیا اور امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ سفر کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان اور ازبکستان کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
مسٹر علیشر تختائیف نے صدر زرداری کو آگاہ کیا کہ ازبکستان اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں واقع بابر پارک کی ترقی کا خواہاں ہے، اور اس ضمن میں ایک متعلقہ ازبک وزیر آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کرے گا تاکہ اس کی تعمیر سے متعلق پاکستانی حکام سے بات چیت کی جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمری میں برفباری کا نیا سلسلہ: 4 انچ برف ریکارڈ، تمام راستے سیاحوں کیلئے کھلے ہیں،پولیس اور انتظامیہ سیاحوں کو خوش آمدید کہنے لئے تیار ہے: ڈی پی اوڈاکٹر محمد رضا تنویر مری میں برفباری کا نیا سلسلہ: 4 انچ برف ریکارڈ، تمام راستے سیاحوں کیلئے کھلے ہیں،پولیس اور انتظامیہ سیاحوں کو خوش آمدید کہنے لئے... “ہمارے بعد ہمارے بچوں کا کیا ہوگا؟” مشعلِ راہ فاؤنڈیشن خصوصی بچوں کے لیے امید کی نئی کرن بن گئی این آئی سی پاکستان میں ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ کی کامیاب مثال بن گیا، ڈنمارک کی سفیر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ایڈووکیٹ سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ مقرر، عمران خان کی جیل میں حالت کی رپورٹ دیں، سپریم کورٹ ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔