قابض صیہونی فوج کے ایک اعلی افسر نے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے آپریشنل ماڈل کا لبنانی مزاحمت کے خصوصی یونٹ "رضوان" کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس مزاحمتی تحریک کے جنگجو، تزویراتی "یلو لائنز" کے اندر بھی اسرائیلی افواج کی موجودگی کو چیلنج کرتے ہیں اسلام ٹائمز۔ قابض اسرائیل فوج میں اسکندرونی بریگیڈ کے ڈپٹی کمانڈر کا کہنا ہے کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ غزہ کی پٹی سے لے کر 1948 کے مقبوضہ (اسرائیل کے زیر قبضہ) علاقوں تک بھی سرنگیں موجود ہیں۔ صیہونی میڈیا کے مطابق اس اعلی سطحی اسرائیلی فوجی افسر نے تاکید کی کہ حماس، یلو لائنز کے اندر بھی ہماری موجودگی کو چیلنج کرتی ہے۔

عربی ای مجلے عرب 21 کے مطابق، صیہونی عسکری ماہر نے دعوی کیا کہ قابض اسرائیلی فوج کی تکنیکی صلاحیتوں نے زیر زمین حصے کی شناخت اور نگرانی نیز اس کی صورتحال کی واضح تصاویر کھینچنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جبکہ یہ ایک ایسا دعوی ہے کہ جو فلسطینی مزاحمتی آپریشن "طوفان الاقصی" کی تاریخی حقیقت سے متصادم ہے کیونکہ اس آپریشن کا ایک حصہ سرحدی باڑ کے انتہائی قریب واقع سرنگوں کے ذریعے انجام دیا گیا تھا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حماس نے اب یلو لائنز کے علاقوں میں موجود اسرائیلی فوج کو چیلنج کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے، قابض اسرائیلی فوج کے اعلی افسر نے مزید دعوی کیا کہ تقریباً 2 ہفتے قبل ہی ایک رات فوجی آپریشن کے دوران جھڑپ ہوئی تھی جس میں 1 اسرائیلی کمپنی کمانڈر زخمی ہو گیا تھا اور اسے علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ادھر عبری زبان کے اسرائیلی میڈیا نے بھی ایک دوسرے اعلی سطحی اسرائیلی افسر سے، نام فاش کئے بغیر، نقل کیا ہے کہ حماس نے اپنی اعلی سطحی آپریشنل تیاری کو بدستور برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس اسرائیلی فوجی افسر کے مطابق حماس کے کام کا طریقہ، لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے "رضوان" نامی خصوصی یونٹ سے ملتا جلتا ہے، گو کہ وہ موجودہ مرحلے میں، بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائیاں نہیں کر رہی۔ صیہونی فوجی افسر نے تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ یلو لائن کا علاقہ ایک اسٹریٹجک علاقہ ہے کہ جسے اسرائیل کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج اعلی سطحی فوجی افسر افسر نے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم