مسئلہ یہ ہے جج صاحب امپورٹڈ ہیں، جسٹس محسن اختر کے اہم ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس اہلکار کو کم سزا دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جب کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جج صاحب امپورٹڈ ہیں، لاہور سے آئے ہیں، لاہور سے آنے کے بعد معلوم نہیں ہوتا کیا کرنا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس اہلکار کی جانب سے ساتھی اہلکار کو گولی مارنے کے کیس میں کم سزا دینے کے خلاف درخواست منظور کر لی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرائل کورٹ کا کم سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کیس کی سماعت کی۔
2022 میں پولیس اہلکار کی جانب سے ساتھی اہلکار کو گولی ماری گئی تھی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جج صاحب امپورٹڈ ہیں، لاہور سے آئے ہیں، لاہور سے آنے کے بعد معلوم نہیں ہوتا کیا کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سزا پانچ سال ہے تو جج نے سزا چار سال کیسے کردی۔ سپریم کورٹ کے احکامات بھی موجود ہیں۔
عدالت نے درخواست گزار کی سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست منظور کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاہور سے
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :