اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بجلی کے شعبے میں مالی دباو کو سامنے رکھ کر کئے گئے فیصلے طویل المدتی منصوبہ بندی، ریگولیٹری خودمختاری اور شمسی توانائی کے موثر استعمال کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔نئی نیٹ میٹرنگ ترامیم ایک عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہے جو مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ نیپرا میں اس وقت دو اہم عہدے خالی ہیں، ایسے میں اگر دور رس معاشی اور سرمایہ کاری اثرات رکھنے والے فیصلے ادارہ جاتی مشاورت کے بغیر کئے جائیں تو یہ ریگولیٹری عمل کی ساکھ کو کمزور کرنے اورسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کو متاثر کرنے کا سبب بنیں گے۔ بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات عارضی فیصلوں سے ممکن نہیں۔ یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے نیٹ میٹرنگ کے حالیہ ترمیم شدہ قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ نئی نیٹ میٹرنگ ترامیم طریقہ کار، مواد اور پالیسی سوچ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ فیصلے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے بجائے وقتی مالی دباو کو سامنے رکھ کر کئے گئے ہیں جن سے طویل المدت منصوبہ بندی، ریگولیٹری خودمختاری اور شمسی توانائی کے موثر استعمال کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ نئی نیٹ میٹرنگ ترامیم کو بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کے اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک عجلت میں کیا گیا فیصلہ محسوس ہوتا ہے، جو مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ڈاکٹر خالد ولید نے مذید کہا کہ اس فیصلے کا وقت اور طریقہ دونوں تشویشناک ہیں۔ نیپرا میں اس وقت دو اہم عہدے خالی ہیں، ایسے میں ادارہ جاتی مشاورت کے بغیر کئے گئے فیصلوں سے ریگولیٹری عمل کی ساکھ کمزورہوگی بلکہ اس کا اثر سٹیک ہولڈرز کے اعتماد پر بھی پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ان ترامیم سے ریگولیٹر کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ نیٹ میٹرنگ اب صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کا براہِ راست تعلق گھریلو صارفین کے اخراجات، سرمایہ کاری کے فیصلوں، صنعت کی مسابقت اور بجلی کے نظام کی معیشت سے جڑا ہے۔ انہوں نے قرار دیا کہ فیصلے وقتی انتظامی دباو کے بجائے آزاد اور شواہد پر مبنی تجزیے کے تحت ہونے چاہئیں۔ڈاکٹر خالد ولید نے واضح کیا کہ پاکستان کے بجلی کے شعبے کا بحران بنیادی نوعیت کا ہے جو مہنگے کیپیسٹی چارجز، طویل المدت معاہدوں، ڈالر سے منسلک ٹیرف اور بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث کم ہوتی طلب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے نیٹ میٹرنگ نے مسائل پیدا نہیں کئے صرف بے نقاب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کو مسئلہ قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے بخار کا الزام تھرمامیٹر پر ڈال دیا جائے۔انہوں نے نیشنل الیکٹرسٹی پلان 2023-2027 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصدصارفین کو سزا دینا یا شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں بلکہ بجلی کو سستا بنانا، طلب میں اضافہ، نظام کی بہتری اور گرڈ کو جدید بنانا ہے۔ڈاکٹر خالد ولید نے زور دیا کہ نیٹ میٹرنگ کو مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی اثاثہ سمجھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان کو دستیاب ترقیاتی فنڈنگ کو نئی بجلی پیدا کرنے کے بجائے گرڈ کی بہتری، جدید میٹرنگ، اسٹوریج اور ترسیلی نظام پر خرچ کیا جانا چاہئے۔ نیٹ میٹرنگ کے پھیلاو کے بعد اصل مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ نظام کی لچک اور جدید کنٹرول ہے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کو سماجی تحفظ اور مالی اصلاحات سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے تحت اگر کم آمدنی والے صارفین کو سبسڈی کے بجائے شمسی نظام فراہم کئے جائیں تو ان کے بجلی کے اخراجات مستقل طور پر کم ہو سکتے ہیں اور حکومت پر مالی بوجھ بھی گھٹ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقسیم شدہ شمسی توانائی کو فرسودہ کوئلے کے بجلی گھروں کو مرحلہ وار بند کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔ بعض مقامات پر بجلی گھروں کو بیٹری سسٹمز، میں تبدیل کر کے نظام کی بہتری اور ماحولیاتی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ موجودہ ترامیم وقتی اور ظاہری ریلیف تو دے سکتی ہیں، لیکن بجلی کے شعبے کے اصل مسائل کو حل نہیں کرتیں۔ ان میں اضافی پیداواری صلاحیت، مہنگے معاہدوں، طلب میں کمی اور معاشی ترقی سے ہم آہنگ ٹیرف جیسے بنیادی مسائل کا کوئی واضح حل موجود نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ان فیصلوں سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، صارفین کی سزا اور توانائی کے ایک مضبوط اور جدید نظام کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات عارضی فیصلوں سے ممکن نہیں اس کے لئے شفاف فیصلہ سازی، مکمل ادارہ جاتی ڈھانچہ، ریگولیٹری خودمختاری کا احترام اور بنیادی مسائل کا براہِ راست سامنا کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈاکٹر خالد ولید نے بجلی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی نیٹ میٹرنگ فیصلوں سے کے بجائے نظام کی سکتا ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش