رواں سال کا پہلا سورج گرہن کب، کیا پاکستان میں دیکھنا ممکن ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا، اس گرہن کو رِنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے دوران چاند سورج کو اس طرح چھپائے گا کہ اس کا بیرونی حصہ ایسے دکھائی دے گا جیسے کوئی رِنگ یا چھلا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: فروری 2026 میں سورج گرہن اور اینٹارکٹیکا میں ’رنگِ فائر‘ کا نادر منظر متوقع
مگر اس رنگ آف فائر کا نظارہ پاکستان میں نہیں ہوگا بلکہ صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا، البتہ جنوبی امریکا اور جنوبی افریقا کے کچھ خطوں میں جزوی سورج گرہن کو دیکھا جاسکے گا، باقی دنیا میں لوگ اس نظارے سے محروم رہیں گے۔
اس گرہن کا آغاز 17 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر ایک منٹ پر ہوگا اور مکمل رنگ آف فائر صرف انٹار کٹیکا میں نظر آئے گا، البتہ چلی، ارجنٹینا اور جنوبی افریقا کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن ہوگا۔
رِنگ آف فائر یا annular گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان اس وقت آتا ہے جب وہ ہمارے سیارے سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی سیٹلائٹس نے مصنوعی سورج گرہن پیدا کرکے تاریخ رقم کردی
چونکہ چاند زمین سے دور ہوتا ہے تو وہ مکمل طور پر سورج کو بلاک نہیں کرپاتا اور جو نظارہ دیکھنے میں آتا ہے اسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں سورج گرہن کو دیکھنا ممکن نہیں ہوگا مگر ٹائم اینڈ ڈیٹ نامی ویب سروس کی لائیو اسٹریم میں اسے دیکھنا ممکن ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news سورج گرہن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نگ ا ف فائر
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔