گلگت بلتستان میں آئندہ وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کا ہوگا، نئیر حسین بخاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔
شمولیت اختیار کرنے والوں میں جی بی کے سابق وزیر مشتاق حسین، انکے بھائی ڈاکٹر عاشق، عمران ندیم، ریٹائرڈ ایس پی عبدالحمید، راجہ ناصر، ساجد دانش ودیگر شامل ہیں۔
اس موقع پرسیکریٹری جنرل نئیر بخاری نے پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آباد میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پارٹی میں شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، پیپلز پارٹی میں شمولیت غیر مشروط ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی اور آئندہ چیف منسٹر پیپلز پارٹی کا ہوگا۔
نئیر حسین بخاری نے کہا کہ عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے، جس کو عوام منتخب کرے اسی کو اقتدار ملنا چاہئے، 2020 کے الیکشن میں مرکزی حکومت پی ٹی آئی کی تھی جس نے براہ راست دھاندلی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جب اقتدار سنبھالا تو جی بی کے لئے انقلابی کام کئے، اس وجہ سے گلگت کے لوگ آج بھی پیپلز پارٹی سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔