سندھ حکومت جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن ہے‘ مرزا فرحان بیگ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر) جماعت اسلامی ضلع کورنگی کے امیر مرزا فرحان بیگ نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر جماعت اسلامی کی جانب سے دھاندلی انتخاب کے دوسال مکمل ہونے پر کی جانے والی پریس کانفرس پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے پولیس کے دھاوے اور جماعت اسلامی کراچی کے قائمقام امیر مسلم پرویز ،رکن سندھ اسمبلی محمد فرحان ،سابق رکن سندھ اسمبلی یونس بارائی سمیت 19افراد کی گرفتاریوں کی سخت مذمت اور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے نام پر بدنما دھبا ہے ۔سندھ حکومت جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن بن گئی ہے ۔8فروری کو دھاندلی والے اور فارم47کے انتخابات پر دوسال مکمل ہونے پر جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن دفتر کے باہر پرامن پریس کانفرس کا انعقاد کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے فسطاطیت اختیار کرتے ہوئے پرامن پریس کانفرس پر پویس کا دھاوا بولا جس پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور رہنمائوں کو پولیس تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا ۔پیپلز پارٹی کو خبر ہوچکی ہے کہ ان کا اب دھڑن تختہ ہونے والا ہے ۔پیپلز پارٹی کی حکومت جتنا بھی ظلم ،تشدد اور گرفتاریاں کر لیں 14فروری کو سندھ اسمبلی پر تاریخی دھرنا ہوگا ۔جماعت اسلامی اپنا جمہوری حق استعمال کر رہی ہے اگر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے طاقت کا استعمال کی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی جماعت اسلامی سندھ حکومت
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔