رمضان المبارک قرآن وانقلاب کا مہینہ ہے ‘نصراللہ چنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-08-11
میر پورخاص (نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصراللہ چنا نے کہا ہے کہ رمضان قرآن وانقلاب کا مہینہ ہے جو نہ صرف انفرادی تربیت کے ساتھ اجتماعی طور پر معاشرے کی بہتری کے لیے ظلم وناانصافیوں کے خلاف اورغلبہ حق کے لیے لوگوں کو کھڑا کرنے کا درس دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص میں جماعت اسلامی کے تحت استقبال رمضان کے اجتماع اوریوسی کھان میں دارالعلوم بیت السلام کی سالانہ تقریب تکمیل قرآن کریم وتقسیم اسناد کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام وپاکستان ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں مگر بدقسمتی سے اسلام کے نام سے معرض وجود میں آنے والے ملک میں سودی نظام سے لے کرپارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی تک سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔دینی مدارس اسلام کے قلعے اورخیرکے مراکز ہیں۔حکومت قرآن کی تعلیم اوراس کے پیغام کو عام کرنے والے ان اداروںکے راستے میں روڑے اٹکانے کے بجائے سرپرستی کرے ۔ اس موقع پر مقامی امیر شکیل احمد فہیم اورمہتمم مولانا عبدالکریم شیخ اور دیگر بھی موجود تھے۔
میرپورخاص:نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصراللہ چنا دارالعلوم بیت السلام کی سالانہ تقریب تکمیل قرآن و تقسیم اسناد سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔