جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت، 14 فروری کو اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی بلاجواز گرفتاری اور حکومتی دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔
محمد فاروق نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ 8 فروری کو جماعت اسلامی کی عوامی پریس کانفرنس الیکشن کمیشن آفس سندھ کے سامنے روک دی گئی اور ان کے علاوہ قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، یہ کارروائی وزیر داخلہ کے احکامات پر عمل میں آئی اور اس میں فسطائیت کے بدترین مظاہر دیکھنے کو ملے۔
انہوں نے اسپیکر سے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بھی سخت احتجاج کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے،یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں نہ اسمبلی میں بات کرنے دی جاتی ہے اور نہ باہر، ہم گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں سے نہیں ڈریں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اہل کراچی کے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ، مسائل کے حل، اور بااختیار شہری حکومت کے لیے جماعت اسلامی 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی۔
محمد فاروق نے وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ یہ سب کس قانون کے تحت کیا گیا اور واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی دباؤ یا انتقامی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔