ٹی 20 ورلڈ کپ: امریکی کرکٹ ٹیم میں پاکستانی فاسٹ باؤلر کی شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے امریکا کی کرکٹ ٹیم میں پاکستانی نژاد فاسٹ باؤلر احسان عادل کو شامل کر لیا گیا۔
احسان عادل کی شمولیت جسدیپ سنگھ کے ان فٹ ہونے کے بعد عمل میں آئی، جس کی باقاعدہ منظوری آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی نے دے دی ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے احسان عادل اس سے قبل پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں، وہ 2015 کا ورلڈ کپ پاکستان کی جانب سے کھیل چکے ہیں جبکہ قومی ٹیم کیلئے تین ٹیسٹ اور 6 ون ڈے میچز میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔
احسان عادل کی امریکی ٹیم میں شمولیت کو تجربے اور فاسٹ باؤلنگ اٹیک کیلئے اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے جس سے امریکا کی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔