سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے۔وزیراعظم نے رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ لائسنس دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لائسنس کے اجرا پر رقمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور متعلقہ حکام کو مبارکباد پیش کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لیے لائسنس کا اجرا پاکستان اور کویت کے درمیان تعلقات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات قائم ہیں جنہیں اب مزید مضبوط معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی شراکت داری میں ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھا جائے گا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف رکھتے ہیں اور انہیں عملی شکل دینے کے لیے حکومت پوری طرح پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل بینکنگ جیسے جدید اقدامات سے پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔تقریب میں اعلیٰ حکام، بینکنگ سیکٹر کے نمائندوں اور سفارتی شخصیات نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: معاشی تعاون کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔