پی ایس ایل 2026 کے میچز پشاور میں بھی کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پشاور میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 کے میچز پشاور میں بھی کھیلے جائیں گے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کور ہیڈکوارٹر پشاور میں منعقد ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، قومی سلامتی کے مشیر اور کور کمانڈر پشاور کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا مظفرآباد میں پی ایس ایل میچز کرانے کا فیصلہ
اجلاس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور میں رواں سال ہونے والے پی ایس ایل کے میچز کا انعقاد کیا جائے گا۔
امن و امان کے لیے اہم فیصلےاجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کے زیر نگرانی ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا، بعد ازاں اس کامیاب ماڈل کو خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع بالخصوص خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی قائمان اضلاع میں شروع کیے جانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی قسم کی عسکری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان کے فیصلے سے کرکٹ کی اصل روح برقرار رہی، شاہد آفریدی
وزیراعلیٰ کی سربراہی میں قائم اس خصوصی ذیلی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور صوبائی حکام کے علاوہ وفاقی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
کمیٹی کیا کرے گی؟اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ خصوصی ذیلی کمیٹی ان اضلاع میں گورننس اور ترقی کے شعبوں میں منصوبوں کی نگرانی کے علاوہ مقامی آبادی کی مستقل آمدنی کو یقینی بنانے کے لیے متبادل روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرے گی، اس کے علاوہ یہ کمیٹی عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر انتظامات بھی کرے گی۔
وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مؤثر رابطےوفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مؤثر رابطوں کے ذریعے دہشتگردی جیسے اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم پالیسی امور پر مکمل ہم آہنگی اور یکساں مؤقف کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کا عزم، صوبائی ایپکس کمیٹی کا جامع لائحہ عمل طے
نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد اور بھتہ خوری جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر بھی توجہ دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پشاور پی ایس ایل پی سی بی کرکٹ محسن نقوی وفاقی وزیرداخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور پی ایس ایل پی سی بی کرکٹ محسن نقوی وفاقی وزیرداخلہ خصوصی ذیلی کمیٹی خیبر پختونخوا فیصلہ کیا گیا پی ایس ایل اجلاس میں پشاور میں کے علاوہ کا فیصلہ جائے گا کے لیے یہ بھی کرے گی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔