بنگلہ دیش: ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے دیپو داس کے اہلخانہ کے لیے مالی امداد و رہائشی سہولت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
بنگلہ دیشی حکومت نے دسمبر 2025 میں ہجوم کے تشدد کا نشانہ بننے والے ہندو برادری کے نوجوان دیپو چندرا داس کے اہلِ خانہ کے لیے مالی امداد اور رہائشی سہولتوں کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ: میمن سنگھ میں ہندو نوجوان کی تشدد سے ہلاکت، 10 افراد گرفتار
دیپو داس کو 18 دسمبر 2025 کو میان سنگھ کے بھلوکا اپازلا کے اسکوائر ماسٹر باری علاقے میں مبینہ توہین آمیز ریمارکس کے الزام میں مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق انہیں پہلے بری طرح مارا پیٹا گیا اور پھر درخت سے لٹکایا گیا اور بعد ازاں آگ لگا کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کو فرقہ وارانہ تشدد کا سنگین واقعہ قرار دیا گیا۔
23 دسمبر 2025 کو چیف ایڈوائزر کی ہدایت پر ایجوکیشن ایڈوائزر سی آر ابرار نے دیپو داس کے گھر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے لواحقین سے تعزیت کی اور حکومت کی جانب سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
حکومتی بیان کے مطابق دیپو داس اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے جس کے پیش نظر حکومت نے اہلخانہ کی بحالی اور تحفظ کے لیے جامع امدادی پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی نگرانی میں نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کے ذریعے 25 لاکھ ٹکہ کی لاگت سے ایک مستقل مکان تعمیر کیا جائے گا جبکہ نقد مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش: محنت کش کی ہلاکت پر حکومت کا اظہار افسوس، شفاف تحقیقات کی یقین دہانی
منصوبے کے تحت دیپو داس کے والد اور اہلیہ کو 10،10 لاکھ ٹکہ دیے جائیں گے جبکہ ان کے بچے کے مستقبل کے تحفظ کے لیے 5 لاکھ ٹکہ کی رقم فکسڈ ڈپازٹ میں رکھی جائے گی۔
منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے ایجوکیشن ایڈوائزر ڈاکٹر ابرار نے اس قتل کو بے حد گھناؤنا اور ناقابل جواز جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد اس نقصان کے مقابلے میں بہت معمولی ہے تاہم ریاست انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گی۔
ڈاکٹر ابرار کا کہنا تھا کہ یہ فرقہ وارانہ جنون پورے ملک کے لیے شرمناک ہے اور صرف منصفانہ انصاف ہی قومی وقار بحال کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادیِ اظہار کا احترام ہر مذہب اور برادری کے لیے لازم ہے مگر کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں۔
مزید پڑھیں: ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا،اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں : محسن نقوی
حکام کے مطابق اب تک اس واقعے میں ملوث 12 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ ایجوکیشن ایڈوائزر نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ذمہ داران کو قانونی عمل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت دیپو داس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش دیپو داس بنگلہ دیش دیپو داس داس کے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔