ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے کے احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی درخواست پر سنایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی معلومات کا تحفظ قانونی طور پر لازم ہے اور اسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔
کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے سنا، جہاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ مالیاتی راز داری کو حقِ معلومات پر فوقیت حاصل ہے اور حقِ معلومات ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت کے مطابق ٹیکس دہندگان کی معلومات حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، جن کا افشا ہونا قانونی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایف بی آر نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے کے احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اس حوالے سے 8 جنوری 2026 اور 3 دسمبر 2025 کو مختلف احکامات جاری کیے تھے، جن کے ذریعے ٹیکس ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
دورانِ سماعت ایف بی آر کی جانب سے سینئر قانون دان حافظ احسان کھوکھر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 216 دیگر تمام قوانین پر بالادست ہے اور اس کے تحت ٹیکس دہندگان کی معلومات افشا کرنے پر مکمل قانونی پابندی عائد ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکس دہندگان کی شناخت ظاہر کرنا بھی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
ایف بی آر کے وکیل کے مطابق قانون میں دی گئی یہ رازداری کسی اتفاق یا صوابدید کا نتیجہ نہیں بلکہ دانستہ قانون سازی کے ذریعے قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کے اعتماد کا تحفظ، ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا اور حساس مالیاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات خصوصی مالیاتی قوانین سے براہِ راست متصادم ہیں۔
تمام دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد ہائی کورٹ ٹیکس دہندگان کی کے احکامات ہے اور
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔