سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، گواہوں کے بیانات قلمبند
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم کی عدالت میں گل پلازہ سانحے سے متعلق سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی، جب کیس کے 4 عینی شاہدین نے اپنا سیکشن 164 کا بیان قلمبند کرایا۔ عدالت نے گواہان کے بیانات کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام، نوٹیفکیشن جاری
کیس کے عینی شاہدین میں 3 دکاندار اور ایک 13 سالہ طالب علم شامل ہیں۔
13 سالہ گواہ آریان نے عدالت میں بتایا کہ 17 جنوری کو وہ حظیفہ کو الوداع کہنے گئے، جو اپنے والد کی دکان پر بیٹھا تھا اور ماچس سے کھیل رہا تھا۔ آریان کے مطابق حظیفہ کے پاس 2 ماچس کے ڈبے تھے اور وہ دوکان پر اکیلا تھا۔
آریان نے کہا کہ وہ شام 5 بجے پہنچے اور ساڑھے 8 بجے تک وہاں رہے، اس کے بعد وہ اپنے والد کی دوکان پر گئے جہاں صمد کے ساتھ کھیل رہے تھے۔
آریان نے مزید کہاکہ صمد آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔ آریان نے عدالت کو بتایا کہ رات 10 بجے دوبارہ حظیفہ کو الوداع کہنے گئے، تب وہ ماچس سے کھیل رہا تھا جس سے آگ بھڑک گئی۔
آریان کے مطابق حظیفہ پہلے بھی ایسا کر چکا تھا اور دوکان کے مالک نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن آگ بڑھ گئی۔
گواہ طلحہ نے بیان دیا کہ 17 جنوری کو اپنی دوکان پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک فلاور کی دوکان میں آگ لگ گئی۔ ابتدائی طور پر انہوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن آگ کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنی جان بچانے کے لیے وہ وہاں سے نکل گئے۔
گواہ ولید نے عدالت کو بتایا کہ ہفتے کے دن اپنی دوکان میں بیٹھے تھے کہ بچوں کے لڑنے کی آواز کے بعد آگ لگ گئی۔
مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری سے سانحہ گل پلازہ تک، انتظامات میں بہتری نہ آسکی
ولید کے مطابق آگ میں شدت کے باعث وہ فلاور کو ہٹانے کی کوشش نہیں کر سکے کیونکہ وہ نٹ بولٹ کے ساتھ جڑا ہوا تھا، اور دھواں پھیلنے کے بعد وہ مارکیٹ سے باہر نکل گئے۔
گواہ حمزہ نے بیان دیا کہ 17 جنوری کو دوکان نمبر 193 میں آگ لگ گئی، پانی ڈالنے کے باوجود آگ کی شدت میں کمی نہیں آئی اور آخرکار وہ باہر کی طرف بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیانات قلمبند سانحہ گل پلازہ گواہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیانات قلمبند سانحہ گل پلازہ گواہ وی نیوز سانحہ گل پلازہ آریان نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔