ہمارے 400 سے زائد کارکنوں کو یکم سے 9 جنوری تک غیر قانونی طور پر اغوا رکھا گیا، حلیم عادل شیخ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر تحریک انصاف سندھ نے کہا کہ ہم جیلوں سے نہیں ڈرتے اور سندھ حکومت کے تمام ذمہ داران کو اپنے اقدامات کا جواب دینا پڑے گا، ہوم سیکریٹری، سیکشن افسران اور تمام ملوث پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی تھری ایم پی او کے تحت غیر قانونی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے سندھ حکومت کو واضح ہدایت جاری کی کہ ایم پی او کے تحت جاری کردہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو ذمہ دار افسران کے خلاف حکم نامہ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے تمام ایم پی او آرڈرز معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یکم جنوری سے 9 جنوری تک ہمارے 400 سے زائد کارکنوں کو اغوا رکھا گیا، سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ پولیس نے پہلے کارکنوں کو اغوا کیا، پھر گرفتار کر کے ایم پی او کے تحت جیلوں میں بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات سندھ کابینہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں، بلاول زرداری بتائیں کیا سندھ میں یہی ان کی جمہوریت ہے اور کیا یہی محترمہ بینظیر بھٹو کی تعلیمات تھیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہمارے ایک کارکن فاضل خان کی والدہ اس صدمے سے انتقال کر گئیں جن کے بیٹے کو اغوا کیا گیا، جس پر ہم ان کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج کروائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی گھروں میں پولیس نے داخل ہو کر لوٹ مار کی، ہم ان تمام پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جنہوں نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے واجد حسین، راجا اظہر اور فہیم خان پر تشدد کیا گیا، کورنگی میں تعینات بدنام زمانہ افسران نے وکلا کو بھی غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگل کا قانون نہیں، ہم جیلوں سے نہیں ڈرتے اور سندھ حکومت کے تمام ذمہ داران کو اپنے اقدامات کا جواب دینا پڑے گا، ہوم سیکریٹری، سیکشن افسران اور تمام ملوث پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت پرامن ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا، ہم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں رہیں، عوام نے ہمارا ساتھ دیا اور یہ پہلی ہڑتال تھی جو مکمل طور پر کامیاب رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افسران کے خلاف حلیم عادل شیخ سندھ حکومت ایم پی او نے کہا کہ انہوں نے کے تحت
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک