کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل سینیٹ سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
سینیٹ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کتابوں اور تعلیمی مواد پر پلاسٹک ریپنگ پر پابندی عائد کرنے والا بل منظور کر لیا۔
یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: کتابوں پر پلاسٹک کور کی روک تھام کا بل سینیٹ کمیٹی سے متفقہ منظور
سینیٹر شیری رحمان نے بل کی حمایت میں کہاکہ پلاسٹک ہمارے شہروں، دریاؤں اور برساتی نالوں کو بند کر رہا ہے، اور کتاب کو پلاسٹک میں لپیٹنا ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا میں ہر سال 430 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوتا ہے، جس میں سے صرف 9 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں سالانہ 30 ملین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، مگر صرف 1 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے۔
شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان میں ہر سال 55 ارب پلاسٹک بیگز استعمال ہوتے ہیں اور ساحلی علاقوں میں زیادہ تر کچرا پلاسٹک پر مشتمل ہوتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ پلاسٹک خوراک کی صورت میں انسانی جسم میں داخل ہو رہا ہے اور اس کے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہاکہ سینیٹ کے ارکان پہلے ہی شیشے کی بوتلیں استعمال کر کے مثال قائم کر چکے ہیں اور اب اس بل کے ذریعے ماحول دوست متبادل کو فروغ دینے اور قومی سطح پر ذمہ دارانہ رویے کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پلاسٹک پیراسیٹامول میں تبدیل، سائنسدانوں نے بیکٹیریا سے دہرا کام لے لیا
شیری رحمان نے کتاب فروشوں اور بک اسٹورز سے اپیل کی کہ وہ کتابوں کو پلاسٹک میں لپیٹنا بند کریں تاکہ ماحول کی حفاظت اور عوامی صحت کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پابندی کا بل منظور پلاسٹک کور سینیٹ شیری رحمان کتابیں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی کا بل منظور پلاسٹک کور سینیٹ کتابیں وی نیوز ہوتا ہے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،