امریکہ سے امپورٹ شدہ میوہ جات پر ڈیوٹی ختم کرنے سے کشمیری معیشت متاثر ہوگی، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
مودی اور ٹرمپ کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ کشمیریوں کے مفاد میں نہیں کیونکہ اسکے تحت امریکہ سے آنے والے ڈرائی فروٹ، سیب اور دیگر پھلوں پر صفر ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جس کا نقصان ہماری میوہ صنعت کو ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اُس وقت ہلچل مچی جب وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین اسمبلی کی جارحیت کو وزیر داخلہ امیت کے حالیہ دورہ کشمیر کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا "بی جے پی اراکین وزیر داخلہ کی پھٹکار کے بعد ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں"۔ عمر عبداللہ نے بجٹ پر ہو رہے بحث کے دوران بی جے پی کے اراکین اسمبلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حالیہ دورے کے دوران آپ کو وزیر داخلہ نے پھٹکار کی ہے، جس کے بعد آپ کی جارحیت میں اچانک تبدیلی آئی ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی کے اس بیان کے بعد بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ایوان میں شور شرابہ مچ گیا۔ تاہم عمر عبداللہ نے اپنے خطاب کو دوبارہ شروع کیا اور نعرے بازی کے بیچ اپنی بات مکمل کی۔ بی جے پی اراکین نے وزیراعلٰی کے اس بیان پر اعتراض کیا، جس میں انہوں نے بھارت اور امریکہ کے حالیہ تجارتی معاہدہ کو جموں و کشمیر کے خلاف قرار دیا تھا۔ عمر عبداللہ کے مطابق مودی اور ٹرمپ کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ کشمیریوں کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس کے تحت امریکہ سے آنے والے ڈرائی فروٹ، سیب اور دیگر پھلوں پر صفر ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جس کا نقصان ہماری میوہ صنعت خاص کر ایپل انڈسٹری کو ہوگا اور نتیجتاً پورے جموں کشمیر کو نقصان پہنچے گا۔
اس پر بی جے پی کے اراکین نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اپوزیشن کے رہنما سنیل شرما نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کے لیے فائدہ مند ہے، نہ کہ نقصان دہ۔ جموں و کشمیر وزیراعلٰی نے اس پر طنزیہ انداز میں جواب دیا اور کہا کہ بی جے پی کو حالیہ دورے کے دوران وزارت داخلہ کی طرف سے زبانی سرزنش کا اثر واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ عمر عبداللہ نے ایوان میں دیگر اہم مسائل پر بھی بات کی، جن میں یومیہ اجرت پر کام کر رہے عارضی ملازمین کی ریگولرائزیشن اور ایس اے ایس سی آئی اسکیم پر پی ڈی پی رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ کے سوالات شامل تھے۔ عمر عبداللہ نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ ہم اس سال یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی ریگولرائزیشن کے عمل کا آغاز کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے کے اراکین بی جے پی
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔