اوورسیزپاکستانی،ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : سندھ حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کےلیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کی منظوری دیدی گئی۔
سندھ کابینہ نے اپنے ایک اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کےلیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ سمندر پار پاکستانیوں کی پراپرٹی رجسٹریشن آسان بنانے کےلیے ایکٹ 1908ءمیں ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سیل ڈیڈ کی ایگزیکیوشن اب آن لائن ہو سکے گی۔
سندھ کے 49 سب رجسٹرار دفاتر نادرا سے منسلک ہیں اوورسیز پاکستانی اب سفارتخانوں یا مشن جا کر ڈیڈز کی ایگزیکیوشن کرسکیں گے۔
ڈیڈز ایگزیکیوشن کےلیے بائیومیٹرک ویری فکیشن کی گنجائش کےلیے رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم منظور کرلی گئی۔
نادرا کے ساتھ مربوط ای رجسٹریشن سسٹم کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق ہو گی، سب رجسٹرار آفس یا پیپلز سروس سینٹر سے بائیومیٹرک تصدیق کرانے کی اجازت ہو گی۔
بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں سندھ کابینہ نے 342 ارب روپے کے بقایاجات کی وصولی کےلیے تصفیے کی تجویز پر بھی غورکیا، مقدمات میں پھنسے 635 پٹیشنرزکےلیے تصفیے کا فارمولا تیار کیا گیا ہے۔
15 فیصد واجبات 3 اقساط میں ادا ئیگی کی تجویز ہے، تجویز کے تحت بقیہ رقم 12 سالانہ برابر اقساط میں ادا کی جائے گی۔
ادائیگیوں کا آغاز جولائی سے ہوگا، ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے اداروں کےلیے سیس کی شرح کم کرکے 0.
8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
ایکسپورٹ سہولت اسکیم کے تحت دوبارہ برآمدہونے والے سامان پر سیس کی مکمل چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ کابینہ نے تجویز منظور کرکے صوبائی اسمبلی کو بھیج دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پراپرٹی رجسٹریشن
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔