برطانوی پولیس قیمتی ہار چوری کرنیوالے چور کو پکڑنے میں تا حال نا کام
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: گزشتہ دنوں برطانیہ کے ایک مشہور و معروف میوزیم سے 129 سالہ پرانا تاریخی ہار چوری کر لیا گیا تھا، جہاں پولیس چور کو پکڑنے میں تاحال نا کام رہی ہے ۔
عالمی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں برطانیہ میں ویسٹ یارکشائر کے ٹاو¿ن ڈیوزبری کے ہال سے 129 سالہ پرانا تاریخی میئرل ہار چوری کر لیا گیا تھا۔ اعلیٰ حکام کے مطابق کونسل لیڈر کیرول پیٹسن نے چوری پر کہا کہ وہ اس واقعے پر شدید صدمے میں ہیں، چوری شدہ سونے اور چاندی کے یہ میئرل ہار 1897ءسے ڈیوزبری کی علامت ہے۔ کونسل لیڈر کا مزید کہنا ہے کہ مقامی کونسل اور پولیس مل کر ہاروں کے چور کو تلاش کر کے گرفتار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جنہیں تا حال نا کامی کا سامنا ہے ، جہاں تاریخی ورثے کی واپسی کے لیے پوری کوششیں جاری ہےں، مذکورہ حوالے سے انتظامیہ کی بے بسی کی جھلک واضح نظر آتی ہے، اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس کسی کے پاس اس چوری سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو وہ پولیس سے فوری رابطہ کرے۔
واضح رہے کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایک ایسا میوزیم جہاں سیکورٹی جدید طرز پرنئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تعینات ہوں وہاں پرویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق رات گئے چور چھت کے راستے ٹاو¿ن ہال کی عمارت میں داخل ہوئے اور ایک الماری کو نشانہ بنایا، جس میں سونے اور چاندی والا ہار رکھا گیا تھا، جو 1897ءسے تعلق رکھتا ہے، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس نے عوام سے معلومات فراہم کرنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ یہ میئر کے منصب سے جڑا یہ ہار اہم ثقافتی اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔