علما کرام شہریوں کی سادگی سے شادی کے لیے رہنمائی کریں، حکومت آزاد کشمیر کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے نظامت مذہبی امور نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اولاد کی شادی سادگی کے ساتھ اور اسلامی طریقہ میانہ روی اپنانے کے اصول کے مطابق کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے جہاں شادی بیاہ کی دلچسپ قدیم روایات اب بھی زندہ ہیں
نظامت مذہبی امور کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، زیورات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث والدین اولاد کی شادی کے لیے مالی طور پر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
نظامت مذہبی امور نے تمام علما کرام، آئمہ اور خطبا مساجد سے درخواست کی ہے کہ وہ عوام الناس کی مناسب رہنمائی کریں تاکہ لوگ شادی میں غیر ضروری مطالبات اور اسراف سے گریز کریں۔
ہدایت نامے میں زور دیا گیا ہے کہ شادی کے موقع پر زیورات کے بجائے سادگی کو فروغ دیا جائے اور اگر سونے کے زیورات لازمی ہوں تو ایک تولہ تک کی حد مقرر کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری باقرخانی کیسے تیار کی جاتی ہے اور مہنگائی کی وجہ سے اس کے کاروبار پر کیا اثر پڑا ہے؟
نظامت کی جانب سے شادی کی دیگر فضول اور مہنگی رسومات کو ختم کر کے سادہ اور اسلامی طریقہ اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ نظامت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ علما کرام اس سلسلے میں عوام کی رہنمائی کا فریضہ بہتر انداز میں ادا کریں تاکہ معاشرتی اخراجات میں کمی اور شادیوں میں سادگی کی روایت کو فروغ مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمر ایک تولہ بیاہ رسم زیورات سونا شادی نظامت مذہبی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایک تولہ بیاہ زیورات
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔