گلگت بلتستان کے سابق وزیر مشتاق حسین پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پیپلز سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نیئر حسین بخاری بھی موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر گلگت بلتستان مشتاق حسین اور ان کے بھائی ڈاکٹر عاشق حسین نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ پیپلز سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نیئر حسین بخاری بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر پی پی کے صوبائی قائدین جمیل احمد، سعدیہ دانش و دیگ بھی موجود تھے۔ یار رہے کہ ضلع گانچھے سے تعلق رکھنے والے مشتاق حسین گلگت بلتستان کے گزشتہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے جنہوں بے بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور کابینہ میں وزارت کا عہدہ بھی مل گیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مشتاق حسین پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کا حصہ بن گئے اور دوبارہ سے وزیر بن گئے۔ آج اسلام آباد میں انہوں ںے پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشتاق حسین میں شمولیت
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔